Weight Loss

obesity Health enemy

obesity Health enemy

obesity Health enemy

کہتے ہیں کہ موٹاپا وبال جان ہوتا ہے کیونکہ موٹاپے کے نتیجے میں صحت کے مسائل کی قطار لگ جاتی ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے خبر دار کیا ہے کہ لوگ موٹاپے کو کنٹرول نہ کر کے صحت کی سہولیات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ موٹے افراد کے علاج معالجے پر ایک خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور یہ علاج عمر بھر جاری رہتا ہے۔
ایک شخص بیمار پڑجاتا ہے۔اور ڈاکٹر سے رجو ع کرتا ہے۔ ڈاکٹر اسے دوائی دیتا ہے اور پرہیز کی ہدایت کرتا ہے۔ یہ مریض دوا تو کھاتا ہے پرہیز بھی کرتا ہے لیکن کچھ عرصہ بعدپھر وہی معمول شروع کر دیتا ہے جو اس کی بیماری کا باعث بنا تھا ۔ پھرڈاکٹر کے پاس جاتا ہے کچھ دن صحت کا خیال رکھتا ہے پھر بد پرہیزی شرو ع کر دیتا ہے۔ یوں مہینے میں10,8 بار تو ہو ہسپتال کے چکر ضرور لگاتا ہے ۔

یہ شخص اپنی صحت سے آنکھیں پھیر کر اپنے پیسہ کا زیاں تو کرتا ہی ہے ساتھ ساتھ ہسپتالوں پر بھی بوجھ بنتا ہے کیونکہ جتنا وقت اور فنڈز کی رقم ہسپتال اس ایک مریض پر بار بار خرچ کرتا ہے اس میں ایک ماہ میں مزید10مریضوں پر توجہ دی جا سکتی ہے یوں ایک شخص کی غفلت محکمہ صحت کے لئے نقصان کا باعث بنتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق موٹاپا جسمانی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافے کا باعث بن رہا ہے۔موٹاپے کو یوں تو صرف مریض کے لے وبال جان سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بیماری وسیع پیمانے پر نقصان کا باعث بن رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کو اس حوالے سے تشویشناک صورتحال کا سامناہے کیونکہ یہ موٹاپے کے شکار عوام کی کثیر تعداد کے حوالے سے چوتھے نمبر پر اور شوگر کے مرض کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ موٹاپا، ذیا بیطس اور دل کے امراض کی اہم وجہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات میں شوگر اور دل کے امراض کی شرح بڑھ رہی ہے۔ خواتین میں موٹاپے کی وجہ سے بریسٹ کینسر کے خطرات کی شرح بھی ذیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بیماری برینک ہیمرج، گردوں کے امراض، ہڈیوں کے امراض، سانس کی بیماری اور کینسر کی باعث بھی بنتی ہے۔موٹاپے کے ذیلی اثرات کی فہرسست بہت طویل ہے چنانچہ موٹاپے کا علاج طویل مدت تک جاری رہتا ہے۔

موٹے افراد کو بڑھتی ہوئی تعداد کے اعتبار سے اب متحدہ عرب امارات میں صحت کی سہولیات کم پڑ رہی ہیں۔ ہسپتالوں میں عملے کو مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے انتظام کرنے میں وقت کا سامنا ہوتا ہے۔ علاج کے لئے آنے والوں میں تعداد موٹاپے سے پریشان لوگوں کی ہوتی ہے۔ یوں حکومتی فنڈز کا بڑا حصہ ان پر ہی خرچ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے محکمہ صحت کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے میڈیکل کے عملے کو پہلے تو ان کو درپیش دیگر مسائل کی تشخص کرنا پڑتی ہے پھر یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ علاج کہاں سے شروع کیا جائے۔زیادہ تر مریضوں کو سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔ سرجری کے بعد احتیاط کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یوں ان مریضوں کی بیک وقت کئی طرح کے پرہیز اور ادویات پر توجہ دینا پڑتی ہے۔ ہسپتالوں میں دوسرے امراض کے علاج کے لئے آنے والے مریضوں میں سے 60 فیصد کے مرض کی وجہ کسی نہ کسی طرح سے موٹاپا اور غذائی عادات ہی ہوتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 26 فیصد مرد موٹاپے کا شکار ہیں۔عورتوں میں یہ شرح 40فیصد ہے۔ تشویشناک امر تویہ ہے کہ شرح 71 فیصد ہے اور عالمی ادارہ صحت کو خطرہ ہے کہ 2015 تک یہ شرح81 فیصد ہو جائے گی۔ یو ائے ای میں ہر چار میں سے تین بچے موٹاپے کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ کھانے پینے کی عادات کے علاوہ وراثت بھی ہے۔ فربہ والدین کے ہاں موٹے بچے جنم لے رہے ہیں۔والدین کی طرح ان کی عادات بھی غلط انداز میں پروان چڑھتی ہیں اس لئے ان بچوں میں بیماریوں کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق موٹے بچوں کی صحت پر ہر سال 1.95 ملیں درہم خرچ آتا ہے ۔ موٹے بچوں کی میڈیکل انشورنس عام بچوں سے2.9 گنا زیادہ ہوتی ہے۔

 

It is said that obesity is known as a result of obesity causes rows of health problems. The Health Organization has warned that people are not harming the motor vehicle by controlling obesity. A risky amount is spent on the treatment of obesity people and this treatment continues throughout the age.
One person gets ill.

And does the doctor talk. The doctor gives medicines and guides him. The patient also eats medicine, but after some time it starts the routine which causes her illness. Then goes to the doctor, it takes care of the health a few days, then it makes an illusion. This is why the hospital needs 10.8 times a month.

The person turns his eyes on his health and does his burden on hospitals, as well as burdens on hospitals, as much as time and funds are spent on the patient with a patient, focusing on more than 10 patients in one month. A person’s negligible department can cause harm to the health.

According to the World Health Organization report, obesity is causing a serious increase in physical illnesses.
It is considered obesity only for obesity, but this disease is causing a massive loss. The United Arab Emirates faces an alarming situation because it is ranked fourth and referring to the number of sugar related to the number of people suffering from obesity. Health experts say obesity is a major cause of fatigue and heart diseases.

That is why the rate of sugar and heart disease in the United Arab Emirates is increasing. Badness in women is also the risk of breast cancer risk. Apart from this, disease breaks are caused by hemorrhoids, kidney diseases, bone diseases, respiratory diseases and cancer. The sub-effects of muscle effects are very long, thus the treatment of obesity continues for a long time. obesity Health enemy

According to an increasing number of chaotic people, the United Arab Emirates has now reduced health facilities. In hospitals, staff face time to manage patients. The number of people who are suffering from obesity is of distress.

That’s why a large amount of government funds spend on them. Due to which the Health Department is facing a loss, the medical staff has to identify other problems related to them first, then it is to decide where to start the treatment.

Most patients require surgery. The need for caution increases even after surgery. These patients have to pay attention to various types of diet and medicines at once. 60% of patients suffering from other patients in hospital hospitals have obesity and nutritional habits in some way. obesity Health enemy

According to the World Health Organization report, 26% of men are obese in the United Arab Emirates.
This rate is 40 percent in women. An alarming order is that the rate is 71% and the global healthcare risk is expected to be 81% by 2015. Three out of every four children are obese in the UAE.

This is also the inheritance in addition to eating habits. Chubby parents are born to the children of their parents. Their habits like a villain are also misguided, so the children are more likely to suffer from diseases. According to a report, every year on chronic children’s health every year 1.9 million dollars are spent. Chubby children’s medical insurance is 2.9 times higher than ordinary children.

Tags
Show More

Mushahid Hussain

My Name is Mushahid Hussain Alvi I am a Web Designer

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Back to top button
Close
%d bloggers like this: