Face & Skin Issues

Korh

Korh

Korh

اختر سردار چودھری 
جذام کی بیماری ان افراد کو عام طور پر ہوتی ہے ،جن میں قوت مدافعت کی کمی ہو۔قوت مدافعت کی کمی آلودگی ،نا مناسب غذا،ورزش نہ کرنے ،ملاوٹ اور کیمکل والی خوراک کھانے اور آلودہ پانی پینے سے ہوتی ہے ۔اس جراثیم کے جسم میں داخل ہونے کا راستہ عام طور پر سانس ہوتا ہے ۔ایک مریض سے دوسرے مریض کو بیماری لگ جاتی ہے ۔

جذام جس کو عام زبان میں کوڑھ بھی کہا جاتا ہے ۔کوڑھ ایک ایساچھوت کامرض ہے، جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے ۔جسم میں پیپ پڑجاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مریض کے جسم کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے ۔کوڑھی کے جسم سے شدید بدبو بھی آتی ہے۔ کوڑھ کے جراثیم بارے بتایا جاتا ہے کہ یہ ٹی بی کے جراثیم کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے ۔

جذام کا موجب بننے والے جراثیم کا انکشاف سب سے پہلے ہانسین نے کیا تھا ۔

لیکن یہ مرض صدیوں پرانا ہے ۔
دنیا بھر میں جذام کا عالمی دن 30 جنوری کو منایا جاتا ہے ۔یہ دن منانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کی توجہ جذام کے موذی مرض کی طرف مبذول کرانے ۔اس کے بارے آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں یہ احساس بیدار کرنا کہ جذام کی بیماری کے علاج کے سلسلے میں لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔اور یہ کہ یہ قابل علاج بیماری ہے۔اِسی ضرورت کے پیش نظر 1952 ء میں جذام کا دن منانے کی ابتدا ہوئی۔عالمی سطح پر1954 ء میں جذام کے مرض سے متعلق آگاہی اور اس مرض میں مبتلا مریضوں سے  Korh اظہار یکجہتی کا دن منانے کا فیصلہ کیا گیا ۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہئے کہ جسم پر کوئی بھی ہلکا سفیدی یا سرخی مائل دھبہ نمودار ہو ،جس میں خارش اور چھونے کا احساس نہ ہو،کئی ہفتوں تک دھبہ ختم نہ ہو،دوائی یا مرہم اس پر اثر انداز نہ ہو،بازوؤں اور ٹانگوں کی نسوں میں درد کا احساس ہوتو فوری اپنے قریبی اسپتال سے رابطہ کرکے اس بیماری کی معلومات کریں تاکہ مرض پر فوری قابو پایا جاسکے ۔اس مرض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جذام قابل اعلاج مرض تو ہے لیکن بر وقت تشخیص نہ ہونے کے باعث مریض کئی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو جا تاہے ۔ملک میں فضائی آلو دگی اور گھروں میں صفائی ستھرائی کے فقدان اور نامناسب،غیر معیاری ،ملاوٹ شدہ خوراک (چونکہ اس سے قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے )کے باعث ہر سال 300 سے زائد افراد اس جذام کا شکار ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر روتھ فاؤنے سن 1958ء میں جب ان کی عمر 30 سال تھی، پاکستان میں کوڑھ ( جذام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی۔اس وقت پاکستان میں یہ مرض تیزی سے پھیل رہا تھا ۔کوڑھ کے مریضوں کے لیے الگ کالونیاں بنی ہوئی تھیں ۔ان کو ان کے اپنے خون کے رشتے ان بستیوں میں چھوڑ جاتے تھے ۔یعنی ان سے ہر طرح کا تعلق ختم کر لیا جاتا تھا ۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ جرمنی کی شہری تھی، جب اس نے فلم دیکھی تو اندر سے لرز گئی وہ انسانیت کی محبت میں کوڑھ کے مریضوں کا علاج کرنے کراچی پہنچ گئی ۔اس نے پاکستان کے کوڑھیوں کے لیے اپنا ملک ،اپنی جوانی ،اپنا خاندان چھوڑ دیا ۔انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر چھوٹا سا سینٹر بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا۔یہ عظیم خاتون نے اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتی تھی اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھی۔ جن کو ان کے سگے بھی چھوڑ گئے تھے ۔اس کی نیت صاف تھی، اللہ نے اس کے ہاتھ میں شفا دی ۔
یہ سینٹر 1965ء میں ایک اسپتال کی شکل اختیار کر گیا۔یوں پاکستان میں جذام کے خلاف انقلاب آ گیا۔ وہ پاکستان میں جذام کے سینٹر بناتی چلی گئی، یہاں تک کہ ان سینٹر کی تعداد 156 تک پہنچ گئی ۔ڈاکٹر روتھ فاؤنے اس دوران 60 ہزار سے زائد مریضوں کو زندگی دی۔حکومت نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی۔ اسے ہلال پاکستان ،ستارہ قائداعظم ،ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔ڈاکٹر روتھ فاؤ کو پاکستان کی مدرٹریسابھی کہا جاتا ہے، اس عظیم خاتون نے اپنی زندگی اس نیک کام کے لیے وقف کر دی تھی ۔پورے ملک میں سنٹر کھل گئے ۔جذام کا علاج ہونے لگا ۔اس پر عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو ”لپریسی کنٹرولڈ“ ملک قرار دے دیا ۔یہ بات قابل فخر ہے کہ پاکستان Korh ایشیاء کا پہلا ملک تھا، جس میں جذام کنٹرول ہوا تھا۔


طبی ماہرین نے کہا ہے پاکستان میں ہر سال اوسطا ً 400 سے500 نئے جذام کے مریض رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور یہ شرح آئندہ 10سال یوں ہی برقرار رہنے کی امید ہے۔ اب تک پورے پاکستان میں 56,780 جذام کے مریض رجسٹرڈ کیے جاچکے ہیں جس میں سے 99 فیصد مریض اپنا علاج مکمل کرچکے ہیں۔ علاوہ ازیں زیرعلاج مریضوں کی تعداد بھی بتدریج کم ہوکر اب 531 رہ گئی ہے۔ سندھ میں 2013ء میں نئے مریضوں کی تعداد 66 تھی جبکہ 2016ء میں یہ تعداد بڑھ کر 133ہوگئی ہے۔
ایک اندازہ کے مطابق اب بھی پاکستان میں تقریباً 2 ہزار ایسے مریض موجود ہیں جو دوسروں میں اس بیماری کو پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جنہیں سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کا بروقت علاج کر کے اِس بیماری کے خاتمہ کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں (کوڑھ) جذام کی روک تھام کا عالمی دن ہر سال 30جنوری کو منایا جاتا ہے ۔ اس دن کو منائے جانے کا مقصد دنیا بھر میں جذام (کوڑھ) کی روک تھام کے متعلق عوام الناس میں شعور و آگہی پیدا کرنا ہے۔پاکستان سے ڈاکٹر روتھ فاؤ کی دن رات محنت اور کوششوں سے اس موذی مرض کا خاتمہ ممکن ہواتو اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے 1996 میں پاکستان کو ایشیا کے ان اولین ممالک میں شامل کر دیا جہاں پر جذام کے مرض پر کامیابی کے ساتھ قابو پایا گیا تھا۔ حکومت پاکستان نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی۔
ڈاکٹر روتھ فاؤ جسے پاکستان کی مدرٹریسابھی کہا جاتا ہے نے اپنی ساری زندگی اس نیک کام کے لیے وقف کر دی تھی ۔اپنا سب کچھ قربان کرنے والی، ہزاروں (کوڑھ) جذام کے مریضوں کو نئی زندگی دینے والی عظیم خاتون10اگست2017ء کو87 سال کی عمر میں کراچی میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں۔ڈاکٹر رُتھ فاؤ جرمنی اور پاکستان دونوں ممالک کی شہریت رکھتی تھی او ر 56 برس پاکستانیوں کی خدمت میں مصروف عمل رہیں ۔ڈاکٹر روتھ فاؤتاریخ کی ایک عظیم شخصیت کی حثییت رکھتی ہے جس کا مقصد انسانیت سے Korh پیاراور پاکستان کی خدمت کرنا تھا۔
تاریخ اشاعت: 2019-03-24

Emotional disorders usually occur in people who lack lack of force. There is a lack of contravention, eating unnecessary food, exercise, non-exercise, mixing and eating food and drinking water. This germ The way to enter the body usually breathes. Another patient gets a patient with a patient.

The absorption which is also known as leprosy in the general language .The fungus is a precious work, which begins to cure the patient’s body. Along with this, the patient’s flesh body breaks down and starts falling down. The body of a vagina also causes severe illness. Leaf germ is reported that it is associated with the TB bacterial group.
The prevalence of germination revealed what was done by Hansen.

But this disease is the past centuries.
The World Day of Emotion is celebrated on January 30. The purpose of celebrating this day is to focus people’s attention towards emotional disease, as well as to convey awareness about this public awareness People need to be aware of the treatment of emotional illness, and it is a cure of disease. Korh
According to this requirement, the beginning of celebration was celebrated in 1952. On the Islamic level, in 1954, information related to emotional dysfunction and decision-making patients was decided to celebrate the day of solidarity.
Medical experts say that the public should have any light whitening or redundant dust on the body, which does not have a feeling of irritation or touch, do not endanger the drug for several weeks, medication or dizziness does not affect it. If you feel a pain in the nerves of arm and legs, then contact your close hospital immediately and inform the disease so that the patient can get immediate control.
Experts of the disease say that emotional implantation is a disease, but due to lack of diagnosis, the patient is also suffering from many diseases. Aerial potatoes in Malak will demand and reduce household deficiency and inappropriate, non-standard, Over 300 people are suffering from this emotional year due to mixed food (since it protects immune deficiency). Korh

Dr. Ruth Fauheen saw a movie about leprosy patients in Pakistan when he was 30 years old in 1958.This time in Pakistan was rapidly spreading this disease. Separated colleges were made for patients with diarrhea. They had left their own blood relations in those settlements. Everything related to them was terminated.
Dr. Ruth Fau was a citizen of Germany, when he saw the movie, he became angry, he reached Karachi to treat leprosy in the love of humanity.
He left his country, his youth, his family for the leprosy of Pakistan. He made a small center on the McDonald Road, behind the Karachi Railway Station and started treatment of lepers. This great lady with these hands The medicine was also toyed and used to cover them. Those whom they had left behind, his intention was clear, God healed in his hand. Korh

This center was adopted as a hospital in 1965. They became revolutionary in Pakistan. He became the center of emotional empowerment in Pakistan, even the number of those centers reached 156. During this time, Dr. Ruth Fauheen gave life to more than 60,000 patients. The government gave them citizenship of Pakistan in 1988. It was also given to Hilal Pakistan, Star Qayyazim, Hilal Imtiaz and Jinnah Award and Mark was also awarded Qayyazim.
Agha Khan University also gave him a Doctor of Science award. Dr. Ruth Fau is called Pakistan’s seminary director, this great lady dedicated his life to this good work. Centers opened throughout the country. The World Health Organization declared Pakistan as a “laptop control” country in 1996 .It is proud that Pakistan was the first country in Asia, with which emotion was controlled. Korh

Medical experts have said that in India every year, 400 to 500 new absorption patients are registered each year, and this rate is expected to be the same for the next 10 years. As far as 56,780 emotional patients have been registered throughout the country, out of which 99% of patients have completed their treatment. In addition, the number of patients with low levels decreased gradually to 531. In 2013, the number of new patients in Sindh was 66 in 2013, and in 2016 the number has increased to 133.

According to an estimate, there are approximately 2,000 patients in Pakistan who have the ability to spread the disease in others, which need to be brought to the end to ensure that the disease is eliminated at the time of treatment. The world’s day of prevention of leprosy (leprosy), including Pakistan, is celebrated January 30 every year. The purpose of being celebrated on this day is to create consciousness and awareness among people around the globe.Dr. Ruth Fau, from Pakistan, was able to eradicate this disease from work and efforts on the day and the World Health Organization of the United Nations subdivided the country in 1996 in Asia’s leading countries where the success of the emotional epidemic Was overcome. The government of Pakistan gave them citizenship of Pakistan in 1988. Korh
Dr. Ruth Fau, who is called Pakistan’s mathematics, dedicated his whole life to this good work.
The great woman giving new life to thousands of people (thousands) of leprosy, died on 10 August 2017 after long prolonged illness in the age of 87. Dr. Ruth Fau was the citizenship of both countries and Germany, 56 Years continue to serve Pakistaniis. Dr. Ruth is a great person of Fountain’s history, whose goal was to serve humanity lovingly Pakistan.
Date published: 2019-03-24.

sourceUrduPoint.

Tags
Show More

Mushahid Hussain

My Name is Mushahid Hussain Alvi I am a Web Designer

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Back to top button
Close
%d bloggers like this: