Tips & Suggestions

Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq

Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq

Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq انسانی جسم کے حوالے سے چند مکمل طور پہ غلط حقائق ہم بچپن سے یہ سنتے آئے ہیں کہ معمول کی خوراک میں سبزیاں کھانے، روزانہ آٹھ گھنٹے سونے اور ورزش کرنے سے ہم تندرست و توانا رہیں گے۔ تندرست زندگی گزارنے کے حوالے سے ہم ایسے کئی اور پیمانوں کے بارے میں بھی سنتے ہیں جن پہ عام طور پہ ہم زیادہ دھیان نہیں دیتے۔ پھر اس کے ساتھ ایسی بہت سی دادی اماؤں کی پرانی کہاوتیں بھی ہمارے کانوں میں گردش کرتی ہیں جو نسل در نسل سفر طے کرنے کے بعد ہم تک پہنچیں، جن میں حقیقت اور افسانے کے مابین فرق کو مکمل طور پہ بھلا دیا جاتا ہے۔اس مضمون میں آپ انسانی جسم سے متعلق ایسے چند حقائق کے بارے میں جانیں گے، جن کا حقیقت سے کوسوں کوئی تعلق نہیں ہے۔ -1ہم دماغ کا صرف دس فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں: انسانی دماغ، جس کا وزن ایک اعشاریہ چار کلوگرام ہے، میں سو ارب کے قریب نیوران موجود ہیں۔

یہ نیوران ایک دوسرے کی جانب معلومات کی ترسیل کرتے ہیں جن کو معانقہ یعنی سینیپسز بولا جاتا ہے، جو دماغ میں کھربوں کی تعداد میں موجود ہیں۔

انسانی دماغ تین حصوں پر مشتمل ہے، یعنی سیریبرم، سیریبلم اور برین سٹم۔ سریبرم دماغ کے پچاسی فیصد حصے پر مشتمل ہے، جس کے ذمے انسان کی بہت ساری اہم سرگرمیوں کی انجام دہی ہے۔ اس کے بالکل نیچے آپ کو سیریبلم نظر آئے گاجس کا بنیادی مقصد کواآرڈینیشن اور جسم کو توازن فراہم کرنا ہے۔ اسی طرح برین سٹم، جو کہ سپائنل کورڈ کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اس کا کام جسم کے بہت سارے خودکار افعال سر انجام دینا ہے، جیسا کہ سانس لینے اور ہاضمے کا عمل۔یہ ایک ناقابلِ یقین با ت لگتی ہے کہ اتنے سارے افعال انجام دینے میں دماغ کا صرف دس فیصد حصہ خرچ ہو رہا ہے۔ افسوس کے ساتھ، یہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ ہم اس کے متعلق تو نہیں جانتے کہ دماغ کے دس فیصد استعمال کا دعویٰ سب سے پہلے کس نے کیا،تاہم اس کا جھوٹا انکشاف پہلی بار وکٹورین دور کے آخری چند سالوں میں کیا گیا۔ اٹھارہ سو نوے کی دہائی کے آخری چند سالوں میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نفسیات ولیم جیمز اور بورس سڈس کی تحقیق میں سڈس کے تین سو کے آئی کیو لیول سے یہ ثابت ہوا کہ تمام انسان اس قدر ذہین ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ دماغ پہ ذیادہ زور دیں، جو کہ اپنے آپ میں ایک مضحقہ خیز بات لگتی ہے۔بیسویں صدی میں کی جانے والی مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو چوہے دماغی طور پہ ان فٹ تھے، انہیں چند افعال دوبارہ سے سکھائے جا سکتے ہیں۔ یہ نظریہ پہلے سے موجود ایک کمزور کیس کو مضبوظ کرتا ہے کہ انسانی دماغ لامتناہی غیر معمولی سرگرمیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک بار پھر افسوس کہ اس حقیقت کو جدید سائنس میں مضحقہ خیز اور بے بنیاد مانا جاتا ہے۔بس یہ اندازہ کر لیں کہ ان معلومات کو صرف پڑھتے ہوئے ہی آپ دس فیصد سے ذیادہ دماغ استعمال کر چکے ہیں۔خیر! -2 چونگم کے ایک ٹکڑے کو ہضم کرنے میں سات سال لگتے ہیں: ببل گم کے ایک بڑے ٹکڑے کو نگلنے کے بعد ہم میں سے بہت سارے لوگ سمجھتے ہیں کہ اب ہمارا نظام انہظام اسے ہضم کرنے میں سات سال لگائے گا۔ یہ سراسر بکواس ہے۔ ہم اب تک اس وہم کو سب سے پہلے پھیلانے والے کے بارے میں نہیں جان سکے، تاہم حقیقت اس سے قریب قریب ہے، چونگم ایک ایسی چیز ہے، جس کو ہضم نہیں کیا جا سکتا۔امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے مطابق گم کو کھانے کی اشیاء میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ بے شک چونگم کو نگلنا کوئی اچھی بات نہیں ہے، لیکن غلطی سے نگلنے کی صورت میں اس کا انجام اتنا حیران کن نہیں ہے۔ اس میں موجود اضافی جزویات جیسا کہ میٹھاس تو قابل ہضم ہیں، لیکن گم کا بیشتر حصہ توڑ پھوڑ کے بغیر خوراک کی نالی سے ہوتا ہوا نظام اخراج کے ذریعے جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔-3 چاکلیٹ کھانے سے چہرے پر کیل منہاسوں کا نمودار ہونا: ہم میں سے بہت سے لوگ یہی سنتے بڑے ہوئے ہیں کہ ذیادہ چاکلیٹ کھانے سے جسم میں کیل اور منہاس نمودار ہو جاتے ہیں۔ گویا بلوغت، پڑھائی اور بچپن کی زندگی سے جڑے مصائب میں بچوں کے لیے چاکلیٹ کی صورت میں ایک نعمت بھی خود کسی مصیبت سے کم نہیں!لیکن ہم آپ کو یہاں بتاتے چلیں کہ یہ روایتی طور پہ سچ مانی جانے والی بات بالکل غلط ہے۔حقیقت صرف یہ ہے کہ چاکلیٹ کھانے سے آپ کے جسم میں کوئی کیل، منہاس یا دانے نہیں بنتے۔ تاہم فیٹ اور شوگر سے بھرپور کسی بھی چیز کے کھانے سے انسانی جلد میں سیبم گلینڈ میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ جلد کافی آئلی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بہت سی اور غیر صحتمند اشیاٰ کھانے سے جلد میں سوزش پیدا ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ لیکن جہاں تک چاکلیٹ یا کسی اور شے کے کھانے سے جلد میں کیل منہاس بننے کا سوال ہے، تو اس کا جواب ’نہیں‘ میں ہے۔

ایسی فیٹ سے بھرپور اشیاءٰ کھانے سے بلڈ شوگر لیول تو بڑھتا ہے، جو بالواسطہ طور پر کیل منہاسوں کو جنم دے سکتا ہے، لیکن اس کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ -4 گاجرکے استعمال سے بینائی میں بہتری آتی ہے: گاجر کے استعمال سے بینائی میں بہتری کی دیو مالا جنگی پروپیگینڈا کی تاریخ سے جڑی ہے۔ صحیح معنوں میں بیٹاکیروٹین ، جو کہ انہظام کے دوران وٹامن اے بنانے میں مدد دیتا ہے، حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔وٹامن اے ، بشمول بینائی کے،جسم کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے بینائی میں بہتری پیدا ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب ہے، نہیں! دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانوی وزارت اطلاعات نے ایک مہم چلائی جس کے مطابق ائیر فورس کے پائلٹ اپنی خوراک میں گاجر کا ذیادہ مقدار میں استعمال کر رہے تھے جس سے ان میں رات کے اندھیرے میں بھی جرمن جنگی جہاز مار گرانے کی صلاحیت بڑھ گئی تھی۔تاہم، سچ یہ ہے کہ گاجر کے استعمال سے رات کے اندھیرے میں بہتر قوت بینائی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔جنگ کے دوران برطانوی جنگی طیارے ائیربورن انٹرسپشن ریڈار کے ذریعے جرمن طیاروں کو مار گرانے میں کامیاب رہے، جبکہ جرمن انٹیلی جنس نے یہ خیال کیا کہ برطانوی پائلٹ اپنی خوراک میں گاجر کے بکثرت استعمال سے بینائی میں بہتری لا کر جرمن طیاروں پہ سبقت لے گئے تھے۔تقریبا ایک صدی گزرنے کے باوجود مغرب میں اب بھی یہ تاثر قائم ہے کہ اورنج کلر کے بکثرت استعمال سے بینائی میں بہتری آئے گی۔ -5انسانوں میں حواس خمسہ کی موجودگی: یہ نظریہ ارسطو کے زمانے سے چلا آ رہا ہے کہ ہم پانچ طریقوں سے کسی شے کو محسوس کر سکتے ہیں۔ یونانی فلسفی ارسطو وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ دعویٰ کیا کہ انسانی جسم میں پانچ حسیں موجود ہیں، جو کہ ہم سب نے ابتدائی تعلیم میں سیکھا بھی ہے، یعنی حس نظر، سماعت، سونگھنا، چھونا اور حس ذائقہ۔تاہم، ان پانچ حسوں کے علاوہ اور حسیں بھی موجود ہیں جن کے بارے ہم میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ لیکن اس سے پہلے حس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حس سے مراد ایک سینسر ہے جو کسی محرک کو جانچ سکتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق انسان میں کم و بیش تینتیس حسیں موجود ہیں، جن میں توازن اور بلڈ پریشر کو بھی حس کے طور پہ گردانا جا سکتا ہے۔ لہٰذا اگر آپ سے کوئی کہے کہ اس میں چھٹی حس بھی موجود ہے، تو اسے خبردار کریں کہ ہمارے جسم میں کل تینتیس حسیں متحرک ہیں۔شاید انہیں آپ کی یہ بات سمجھ نہ آئے، لیکن کم از کم آپ حقائق سے واقف ہیں۔ -6 زبان کا گھمانا ایک جینیاتی عمل ہے: ہم میں سے بہت سے لوگوں کو بیالوجی کے اساتذہ نے پڑھایا ہو گا کہ ہماری زبان گھمانے یعنی رول کرنے کا طریقہ در اصل جینیات پہ منحصر ہے۔ لوگوں کی اکثریت زبان رول کر سکتی ہے، اور عام فہم میں اس عمل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اگر آپ کے والدین میں سے کوئی بھی یہ کر سکتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بھی کر سکتے ہیں، جیسا کہ ہمیں بچپن سے بتایا گیا ہے۔درحقیقت، ایسا کہنا اتنا آسان نہیں ہے۔ دوسری بہت سی انسانی جسم سے متعلق غلط فہمیوں کے برعکس ہم اس نظریے کے منبع کے بارے میں واقفیت رکھتے ہیں۔ انیس سو چالیس میں ایک امریکی ماہر جینیات الفریڈ سٹرٹیونٹ نے ایک مضمون شائع کیا جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ہماری زبان رول کرنے کی قابلیت جینیاتی خصوصیات پر منحصر ہے۔ تاہم، الفریڈ کی یہ تحقیق کچھ ہی عرصے بعد رد کر دی گئی، کیونکہ لوگوں نے بھانپ لیا کہ جڑواں بچوں کے کیس میں اکثر ایک بچہ زبان رول کر سکتا تھا، جبکہ دوسرا بچہ ایسا کرنے سے قاصر تھا۔اس کے نتیجے میں الفریڈ کو اپنی ہار تسلیم کرنا پڑی۔ اس کے باوجود، کئی دہایاں گزرنے کے بعد بھی پوری دنیا کے سکولوں میں آ ج بھی اس جھوٹ کو نئے طریقے سے سنایا اور سکھایا جا رہا ہے۔ اب جبکہ آپ اس حقیقت سے واقف ہو چکے ہیں، تو براہ مہربانی اگلی بار اپنے دوست و اقارب کی تصحیح کیجیے اگر وہ اس کا ادراک نہیں رکھتے۔ -7 حرارت کا سر سے اخراج: اوپر بیان کی جانے والے انسانی جسم سے متعلق غلط فہمیوں کے مقابلے میں یہ سب سے دلچسپ دیو مالا ہے کہ ہمارے جسم سے نکلنے والی حرارت کا بیشتر حصہ سر سے خارج ہوتا ہے۔اس حوالے سے سائنسدانوں نے انیس سو پچاس کی دہائی میں ایک ریسرچ کی جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ لوگوں کی اکثریت میں حرارت کا بیشتر اخراج سر سے ہوا ہے۔ اس تحقیق میں اصل مسئلہ یہ تھا کہ جن لوگوں پہ یہ تجربہ کیا گیا، ان سب نے پورے جسم کو کوٹ اور دیگر گرم اشیاء سے ڈھانپا ہوا تھا، جبکہ ان کے سروں کو ننگا رکھا گیا تھا۔ اس سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر آپ نے سر کے علاوہ پورے جسم کو ڈھانپا ہوا ہے، تو یقینی طور پہ آپ کے جسم سے ذیادہ تر حرارت کا اخراج آپ کے سر سے ہی ہو گا۔تاہم، جدید تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سر کے راستے ذیادہ حرارت خارج نہیں ہوتی۔ ایک عام انسان میں صرف سات فیصد حرارت سر سے خارج ہوتی ہے، جو کہ سمجھ بھی آتی ہے، کیونکہ سر کا رقبہ پورے انسانی جسم کا بھی تقریبا سات فیصد ہی ہے۔ لہٰذا، اپنے سر کو بھی جسم کے باقی اعضاء کی طرح استعمال کریں، اور جب آپ ٹھنڈ محسوس کریں تو سر بھی ڈھانپیں تاکہ آ پ محفوظ رہیں۔-8بال اور ناخنوں کا موت کے بعد بھی بڑھنا: یہ بات انسانی جسم کے لحاظ سے کچھ حد تک مضحکہ خیز لگتی ہے۔ یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ ہمارے مرنے کے باوجود پروٹین سے بنے کیروٹین، جس کی بدولت ناخن اور بال بڑھتے ہیں، بننے کا عمل جاری رہتا ہے۔ تاہم، یہ سچ نہیں ہے۔ موت واقع ہو جانے کے بعد انسانی جسم میں تیزی سے ڈی ہائیڈریشن کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔پانی کی کمی کی وجہ سے جلد بھی سکڑنا شروع ہو جاتی ہے اور اندر کی جانب دھنستی چلی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے یوں لگتا ہے جیسے ناخن اور بال مزید بڑھ رہے ہیں، جبکہ اصل میں پورا جسم سکڑ رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر تابوت بردار لاش کو نم رکھتے ہیں تاکہ وہ سکڑ نہ جائے۔ -9بند انگشتی سے جوڑوں کا درد واقع ہونا: جوڑوں کا درد محض ایک بیماری نہیں، بلکہ یہ بہت سی بیماریوں کا ایک مجموعہ ہے، جن میں سوجن، درد جوڑوں میں جلن کا احساس سرفہرست ہیں۔بد قسمتی سے جوڑوں کا درد ایک بڑی عام بیماری ہے، جس کا شکار پاکستان میں لاکھوں افراد ہر سال ہو جاتے ہیں۔ یہ بیماری ہلکے پیمانے سے لیکر ذیادہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ آ پ کو وہ کام نہیں کرنے چاہیے جن سے جوڑوں کے درد کا اندیشہ ہو۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ، جو صحت کے معاملے میں ذیادہ ہی فکر مند ہیں، یہی سمجھتے ہیں کہ بندانگشتی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے جوڑوں کا درد واقع ہوتا ہے۔تاہم، آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ ایسا کرنے سے آپ کو جوڑوں کا درد قطعی طور پہ نہیں ہو گا۔ لیکن اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ بندانگشتی سے اصل میں ہوتا کیا ہے۔ اس سے نکلنے والی آواز اصل میں سونویل فلوئڈ کے بلبلوں کے پھٹنے سے آتی ہے، اور اس حوالے سے ہارورڈ میڈیکل سکول کے ڈاکٹروں کی تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ بند انگشتی کا جوڑوں کے درد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لہٰذا آپ بیشک اس عادت کو چھوڑ دیں، کیونکہ اس کا براہ راست تعلق آپ کی کمزور انگلیوں سے ہے، اور ویسے بھی اس سے نکلنے والی آواز کانوں کو ذیادہ اچھی نہیں لگتی۔ -10داڑھی کی شیو کے بعد ذیادہ گہری داڑھی کا نمودار ہونا: یہ بات بھی ہم سب نے سنی ہوگی خواہ کوئی مرد ہو یا عورت کہ جسم کے کسی بھی حصے سے بال کاٹ دینے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ اس کے بعد بال نہ صرف جلدی آجائیں گے بلکہ ذیادہ گہرے بھی ہوں گے۔یہ قطعی طور پہ غلط ہے۔ در حقیقت، ہم یہ بہت عرصے سے جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ اس پہ سب سے جدید ریسرچ انیس سو اٹھائیس میں ہوئی جس میں موجود تمام افراد نے ایک ہی شیونگ کریم اور برانڈ کا استعمال کرتے ہوئے ایک ہی طریقے سے شیو کی، جس کے بعد ان سب کے جسم میں بالوں کی نشونما کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں بہت ساری متھ کا تعلق صرف قیاس آرائی سے ہے۔ جب بال کی دوبارہ گروتھ ہوتی ہے تو تب ہمارے دماغ میں پہلے سے موجود خیالات ہی اس حوالے سے ہماری رائے کا ارتقاب کرتے ہیں۔ اور ویسے بھی جب آپ ویکس یا شیو کرتے ہیں تو یہ بالکل ایسے ہے جیسے آپ ایک درخت کو اکھاڑ دیں لیکن اس کی جڑیں اپنی جگہ قائم ہوں۔ لہٰذا بالوں کی نشونما کی رفتار کا تعلق ہارمونز کی تبدیلی سے ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-02-24

A few completely incorrect facts regarding the human body, we have been hearing from our child that eating daily vegetables, sleeping eight hours daily and exercising will keep us healthy and humble. Regarding healthy life, we also hear about many other measures that we usually do not care about. Then with this, old stories of such grandmother Amuns also rotate in our ear, which after reaching a breeding journey, reaches the difference between reality and fiction.
In this article, you will learn about some of the facts about human body, which have no connection with reality. -1 We use only 10 percent of the brain: the human mind, which is about 4 billion kg, contains nervous nerves around one billion. Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq
These neurons deliver information on each other, which is considered as imbalance-like snippers, which are available in the brain’s number.

Human brain consists of three parts, i.e. sererbram, cerebral and barn stem. Cyberbrum contains about 50 percent of the brain, which is responsible for the most important activity of humans. At the bottom of this, you will see Serbia as the primary purpose of providing the balance to the quality and body. Similarly, the Berne Stem, which is associated with the spin cord, is to perform many automated body functions, such as breathing and digestion. Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq
It seems like an incredible feeling that only ten percent of the brain is spending in performing so many functions. Unfortunately, this is exactly the opposite of the fact. We do not know about this, who first claimed the use of ten percent of the brain, however, the first discovery of the lie was revealed in the last few years of Victorian era. In the last few years of the eighteenth-nineteenth year, research of Harvard University’s psychiatrist William James and Boris Suds showed that the three hundred IQ levels proved that all humans could be so intelligent, even if they were more intelligent Strengthen, which seems to be a ridiculous thing.
More research in the twentieth century found that the rat who had been mentally fit in it could teach some functions again. This theory refers to a pre-existing case that the human brain is able to perform endless extraordinary activities. Really regret that this fact is considered as absurd and unmatched in modern science. Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq
Just guess that only after reading this information you’ve used more than ten percent of brain. It takes seven years of digestion of one square kilogram: After swallowing a large piece of bubble gum, many of us think that our system will now take it seven years to digest it. It’s pretty naughty. We have not yet known the spread of this wave, but the fact is closer to it, Chonggam is something that can not be digestive.
According to US Food and Drug Administration, gum can not be counted on food items. Of course Goggam is not a good thing to swallow, but it is not surprising if the mistake swallows. Extra medicines such as methasas are digestive, but most of the gum without the tampering, the system that comes from the drainage system excludes the body.
3 To be a nail mask on face face by eating chocolate: Many of us have grown up listening that eating too much chocolate gets nail and mouth in the body. As a result of puberty, reading and childhood life, chocolate is not less than a problem in childbirth, but let us tell you here that it is a traditionally true truth. Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq
The fact is that eating chocolate does not make any nail, mouth or stomach in your body. However eating food and anything rich with sugar gives rise to apple plummet in the human skin, which means a lot of oil becomes very good. Likewise many food and non-food items increase the risk of inflammation in the skin. But as far as chocolate or any other item is consumed with nail skin, it is not ‘no’.Eating such fatty items increases blood sugar levels, which can directly give birth to nail mammals, but it does not have a direct connection. The use of carrot-4 improves the efficiency: The use of carrots to improve benz is associated with the date of war propaganda. In fact, betacirotin, which helps to make vitamins A during digestion is the best way to get it. Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq
Vitamins A, including benevolence, are very beneficial for the body. But the question is whether does it improve benevolence or not? He answers, no! During the Second World War, the British Ministry of Information reported an airline pilot using the carrots in its diet, in which the German warships had increased in the dark of the night. .
However, the fact is that the use of carrots has no connection with the use of carrot in the dark of the night. During the period, British warriors were able to kill German planes by the Airborne Inspection Radar, while German intelligence thought Did the British pilots take advantage of their careless use of Carrot in their food, and bypassed the German planets.
Despite almost a century, despite the influence of the West, it has been an impression that the use of orange clerical use will improve benches. -5 presence of twenty-five people in humans: this theory is coming from the time of Aristotle that we can feel a person in five ways. The Greek philosopher Aristotro was the first person to claim that there are five senses in the human body, which we all have learned in elementary education, namely, sensible eye, hearing, smell, touch and taste. Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq
However, there are more senses than these five sentiments, many of us do not know. But before that the senses need to be understood. Sensitive is a sensor that can test a trigger. According to modern research, there are thirty three senses in humans, in which balance and blood pressure can also be made as sensitive. So if someone tells you that there is a sense of holiday, then warn that there are thirty three sensations in our body.
Perhaps they did not understand this, but at least you know the facts. -6 Language-wise is a genealogical process: Many of us have been taught by the Belgian teachers that the way to rotate our language depends on the actual genes. The majority of people can roll the language, and in common understanding the process is centralized. If any of your parents can do this, then that means you can do it, as we have been told childhood. Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq
Of course, it is not so easy to say. Unlike many other human body misconceptions, we are aware of the source of this theory. An American expert, Janine Alfred Stuttlett, published an article in the 40th century, concludes that the ability to roll our language depends on genetic characteristics. However, Alfred’s research has been rejected shortly after the people, in which the twin-child case could often have a child rolled out, while the other child was unable to do so.
As a result Aladdin had to accept his defeat. Yet, after passing several decades, even in the world of schools, the lie is being taught newly and taught. Now that you are aware of this fact, please correct your friend’s status for the next time if he does not care about it. -7 Heat-head extrusion: This is the most interesting giant compared to human body misconceptions described above that most parts of our body-exhaust is removed from the head.
In this context, scientists conducted an investigation in the mid-1990s, which concluded that the majority of people in the majority of the air has emerged from the head. The real problem in this research was that those people were tested, they all covered the body with coats and other hot items, while their heads were naked. This proves that if you have been covering the whole body apart from the head, then your body temperature will definitely be exhausted from your head.However, modern research has shown that the heat does not exhaust the heat. In a normal human being, only seven percent of the heat is exhausted, which also understands, because the head area is about seven percent of the entire human body. Therefore, use your head as the rest of the body, and when you feel cool, cover the head so that it remains safe.
-8 Growth even after the death of hair and nails: It seems ridiculous by the human body to some extent. It is also believed that despite our death, the protein-made carotenine, which causes nails and hair to grow. However, that’s not true. After death comes, the human body starts rapidly de-dehydration. Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq
Water scarcity begins to shrinkle quickly and inhalation leads to it. Due to this, it seems as if nails and hair are growing further, while actually the entire body is shrinking. That’s why often the coffin keeps the body so that they do not shrink. -9 Closure to joint pain: Joint pain is not only a disease, but it is a combination of many diseases, which lead to inflammation of pain in the joint joints.
Unfortunately, joint pain is a major disease, which causes millions of people to suffer every year in Pakistan. This illness can prove to be dangerous even by light scale. It is obvious that the work should not be done which may result in joint pain. Many of us, who are very concerned about the health issues, think that they should not stay calm because it affects joints.
However, let’s tell you that doing this would not make you a joint pain. But before this, it is important to know what happens to the bedroom. The sound coming out of this actually comes from exploding the bible of the Monopoly Floyd, and in this regard researchers of Harvard Medical School also show that closure is not related to the joint pain. Insani Jism Ke Hawale Se Chand Galat Haqaiq
So you must leave this habit, because its direct connection is with your weaker fingers, and the sound ears that are coming from it do not look good enough. -10 To be a deep beard display after beard shoe: We all have heard that even if there is a man or woman, there is no use to cut hair from any part of the body, because after that hair not only hurry They will come, but they will be deeper too.
This is clearly incorrect. In fact, we have long been aware that this is wrong. In this, the most modern research was done in twenty-eights, in which all the people present in the same way using the same shaving cream and brand, after which the hair of their body was reviewed. There are many maths related to this only speculation. When there is a re-group of hair then then our ideas present in our mind only evolve our opinion. And anyway, when you make a vaccine or body, it is just like you can squeeze a tree, but its roots are in place. Therefore, hair growth speeds are related to the hormones change.
Date published: 2019-02-24

sourceUrduPoint.

#insani aza in urdu,

#insani body parts,

Tags

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close