Health Articles

Have Mercy on Yourself

Have Mercy on Yourself

Have Mercy on Yourself:

Allah has given many sources to protect his servants from evil deeds. When someone intends to do evil, then the conscience immediately informs him. Do not listen to the conscience or listen to it, at its discretion. Depending on how much he handles towards healthy and intelligent foods, the stomach prohibits it.
If he is wise then he becomes cautious and if he is a slave of language like a majority, then by ignoring the gesture warning fulfills the desire of his chastity and then damages.
Most often, especially in women, it comes to listening that “If the stomach grows in a stomach then it does not mean that it is futuristic.
How these cheeses and digestive medicines have been made, so one of them grow up for the next day and next healthy and chopped stomach. Have Mercy on Yourself

The word “far” means a lot of thought. This word is the secret of complete health. Every religion in the world has religiously divided the farms and has worshiped it. It is called “Bait” Somewhere is called “Lincoln” (Islam). “Islam has given it the form of” fasting “, and it is considered obligatory in the blessed month of Ramadan, but in badly we instead of taking advantage of this golden opportunity Greatly harm the machinery.

In comparison to every day, we take at least twice a double diet in the patient. Then on the occasion of fasting, chilies, chicken rolls, sauce, palm, sweets, salt leaves, thanksgiving leaves, fry cuts, and scholars Why and why not stay calm? Why have many times been hungry and thirsty, God has come this time by God? Instead of asking for our ears, our ears keep on listening to siren or adhan.
If the dining room is large and there is a TV in the room, then our views are on TV.
As soon as Allah heard the voice of Akbar, we were broken by eating food like Ethiopian people.
After filling the food to the throat, we sit in front of the TV. The hot fragrant coffee in the last seven days is enough to drink and drink coffee and watch the TV too.
It is time for meals to eat at least two hours after meals. Let me sit down and read the Ashisha prayer house at home. I should not be healthy and spicy at night. No dramas should be seen on V.
In this way, the brain is engaged in making TVs and on the TV and taking it to the top.
This machine makes it easy to eat food. All kinds of remedies show displeasure to those who like to drink, when plates, chicken bracelet, mint cream, syrup Rahab, fried fish, rituals And Zoroastrians are prostrated, whose perfume makes them uncomfortable. After cleaning the hands on all these foods, they take a long time after eating a candyrobe and turn on the bed.

In the night, the alarm took place for the pilgrimage again. The wine was already present in the kitchen. Plate the night and heat it in the warm microwave and put it on a couch. Let’s have to stay hungry for several hours, so the stomach is filled. Now the whole world is not even eaten by the dawn of the Fajr. The sound of the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: “Begum! Soon, refreshing from refrigerator Eater to dongatol. Have Mercy on Yourself
“Then it is difficult to cook well.
Our religion has assumed fasting for our body and soul’s health, but we do not make them sick rather than healthy.
Remember that every disease starts with the stomach. A deadly disease first stirs in the form of a small canopy, but it does not take place in the beginning. The food terminator changes the shutter and the nutrients, and the nipple Keeps calm.
When a couple of years after the adoption of a coward one, a whirlpool vegetable, they become conscious. Then they start chilling hospitals.
If there is any malicious disease, then chemotherapy or surgery. The problem of the surrounding is stomach bleeding. Diarrhea. They have regular colorful balls.
The diet of such people is restricted to the pulses of fatigue and thin peanuts. The chopped straps are delicious food for them. The perfume of cooked foods in the kitchen plays on their hearts.
Allah has set a quota of every blessing for every person. Those who eat more and more dishonesty, they lose their blessings in the last years of life and the blessings of God. He appreciates his happiness, so in order to live healthy, understand the language of the stomach and say it. Have Mercy on Yourself
If you ever become unhealthy, then dose the next day and try to be careful later. Have mercy on the poor. The basic wealth is health, and keep it safe.

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بُرے کاموں سے بچنے کے لیے بہت سے ذرائع دیے ہیں۔انسان جب کسی بُرے کام کا ارادہ کرتا ہے تو ضمیر اُسے فوراً آگاہ کردیتا ہے۔اب وہ ضمیر کا کہنا مانے یا نہ مانے،یہ اُس کی صوابدید پر منحصر ہے ۔اسی طرح جب وہ روغنی اور ثقیل کھانوں کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے تو معدہ اُسے منع کرتا ہے ۔اگر وہ سمجھ دار ہے تو محتاط ہوجاتا ہے اور اگر اکثریت کی طرح زبان کے چٹخارے کا غلام ہے تو معدے کے انتباہ کو نظر انداز کرکے اپنے چٹورپن کی خواہش پوری کر لیتا ہے اور پھر نقصان اٹھاتا ہے۔
اکثر احباب ،خصوصاً خواتین سے یہ سننے میں آتا ہے کہ”اگر پیٹ میں گڑ بڑ ہوجائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ فاقہ کرو۔

یہ چورن اور ہاضمے کی دوائیں کس لیے بنی ہیں ،اس لیے ان میں سے کوئی ایک دواکھالو اور اگلے روغنی اور چٹ پٹے طعام کے لیے مستعد ہوجاؤ۔

”فاقے“کا لفظ بہت غور طلب ہے۔اس ایک لفظ میں مکمل صحت کا راز پنہاں ہے۔دنیا کے ہر مذہب نے فاقے کو مذہبی شکل دے کر اسے عبادت قرار دیا ہے۔کہیں یہ”برت“کے نام سے پکارا جاتا ہے اور کہیں”صوم الکبیر“(LENT)کہلاتا ہے ۔اسلام نے اسے ”روزے“کی شکل عطا فرمائی ہے اور رمضان کے مبارک مہینے میں روزے کو فرض قرار دیا ہے،لیکن بد قسمتی سے ہم اس سنہری موقع سے فائدہ اُٹھانے Have Mercy on Yourself کے بجائے اپنے جسم کی مشینری کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔
روزمرہ کے مقابلے میں ہم سحری میں کم از کم دگنی غذا اپنے معدے میں ٹھونس لیتے ہیں۔پھر افطار کے وقت دستر خوان پرپکوڑے،کچوریاں ،چکن رول،سموسے،کھجور،مٹھائی،نمک پارے،شکر پارے،فروٹ چاٹ اور کولامشروبات سجے ہوتے ہیں اور آخر کیوں نہ سجے ہوں؟کئی گھنٹے بھوکا اور پیاسا رہنے کے بعد خدا خدا کرکے یہ وقت آیا ہے ۔دعائیں مانگنے کے بجائے ہمارے کان سائرن یا اذان کی آواز پر لگے رہتے ہیں۔اگر کھانے کا کمرہ بڑا ہے اور کمرے میں ٹی وی موجود ہے تو ہماری نظریں ٹی وی پر جمی ہوتی ہیں۔
جیسے ہی اللہ اکبر کی آواز آئی ،ہم ایتھوپیا کے قحط زدہ لوگوں کی طرح کھانے پر ٹوٹ پڑے۔
کھانا حلق تک بھرلینے کے بعد ہم ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔تھوڑی دیر میں گرم گرم خوشبودار کافی آجاتی ہے تو خوب مزے لے کر کافی پیتے ہیں اور ٹی وی بھی دیکھتے ہیں۔دو گھنٹے بعد کھانے کا وقت ہو جاتا ہے تو کھانا کھانے بیٹھ جاتے ہیں ۔تراویح چھوڑ دیتے اور عشاء کی نماز گھر پر پڑھ کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں۔اصل میں رات کاکھانا روغنی اور مسالے دار نہیں ہونا چاہیے۔کھانا کھاتے وقت ٹی Have Mercy on Yourself وی پر کوئی ڈراماوغیرہ نہیں دیکھنا چاہیے۔
اس طرح دماغ وآنکھیں ٹی وی پر اور ہاتھ لقمے بنانے اورمنھ تک لے جانے میں مصروف رہتا ہے ۔اس مشینی عمل سے کھانا مضر صحت بن جاتا ہے ۔کھانے پینے کے شوقین افراد کو اس قسم کی ساری نصیحتیں اس وقت بے معنی دکھائی دیتی ہیں،جب دستر خوان پر پلاؤ ،چکن کڑاہی،مٹن قورمہ،شامی کباب،تلی ہوئی مچھلی،رائتہ اور زردہ سجادیاجاتا ہے ،جن کی خوشبوئیں انھیں بے چین وبے قرار کر دیتی ہیں۔ان سب کھانوں پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد وہ کولامشروب پی کر ایک لمبی سی ڈکارلے کر بستر پر دراز ہوجاتے ہیں۔
رات میں الارم نے پھر سحری کے لیے اُٹھادیا۔بیگم تو پہلے ہی باورچی خانے میں موجود تھیں۔رات کا پلاؤ اور قورمہ مائیکروویواوون میں گرم کرکے دستر خوان پر لگادیا۔چوں کہ کئی گھنٹے بھوکا رہنا ہے،اس لیے پیٹ خوب بھرلیا جاتا ہے۔ابھی سحری پوری طرح کھائی بھی نہیں کہ فجر کی اذان شروع ہو گئی۔جھٹ آواز لگائی:”بیگم!ذرا جلدی سے ریفریجر یٹر سے کھیر کا ڈونگاتولے آؤ۔“پھر کھیر کھاکر چلنے پھرنے میں دشواری ہوتی ہے۔
ہمارے مذہب نے تو روزہ ہمارے جسم اور روح کی صحت کے لیے فرض کیا ہے ،لیکن ہم انھیں صحت مند بنانے کے بجائے بیمار کر لیتے ہیں۔
یاد رکھیے ہر بیماری کی ابتدا معدے سے ہوتی ہے ۔ایک مہلک بیماری پہلے ایک چھوٹی سی کونپل کی شکل میں معدے میں پھوٹتی ہے،لیکن شروع میں اس کا پتا نہیں چلتا۔بسیار خورافراد بدستور چٹ پٹی اور روگنی غذائیں کھاتے اور اس کو نپل کی آب یاری کرتے رہتے ہیں ۔جب چند برس بعد وہ کونپل ایک خاردارزہریلے پودے کی صورت اختیار کرلیتی ہے،تب انھیں ہوش آتا ہے ۔پھر وہ اسپتالوں کے چکرلگانے لگتے Have Mercy on Yourself ہیں ۔
اگر کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو چکے ہوں تو کیموتھراپی یا آپریشن کراتے ہیں۔گردوں کا مسئلہ ہے توتنقیہ خون(ڈایالیسس)کراتے ہیں۔حجامہ کراتے ہیں۔انھیں رنگ برنگی گولیاں باقاعدگی سے کھانی پڑتی ہیں ۔ایسے افراد کی غذا دوتوس اور پھیکی پتلی مونگ کی دال تک محدود ہو کررہ جاتی ہے ۔چٹ پٹے ذائقے دار کھانے اُن کے لیے خواب بن جاتے ہیں۔تقریبات میں پُر تکلف کھانوں کی خوشبوئیں ان کے دلوں پر آرے چلاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر فرد کے لیے اپنی نعمتوں کا ایک کوٹا مقرر کر رکھا ہے۔جو فرد ان نعمتوں کو زیادہ سے زیادہ کھانے لگتا،اور بے قدری کرتا ہے،وہ زندگی کے آخری برسوں میں ان نعمتوں سے محروم ہوجاتا ہے اور جوخدا کی نعمتوں کی قدر کرتا ہے ،وہ ان سے تاحیات لطف اندوز ہوتا رہتا ہے ،اس لیے صحت سے بھر پور زندگی گزارنے کے لیے معدے کی زبان کو سمجھیں اور اس کا کہنا مانیں۔اگر کبھی بے احتیاطی ہو جائے تو اگلے دن سادہ کھاناکھائیں اور آئندہ محتاط رہنے کا عزم کریں۔خود پر رحم کریں۔اصل دولت صحت ہے،اس کی حفاظت وقدر کریں۔

Source UrduPoint.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Back to top button
error: Content is protected !!