Exercise is very important

Exercise is very important

Exercise is very important If women and gentlemen love their life then exercise and keep walking or else your health will soon drive you through life’s run. They went to the day when exercising was continuing in our lives rather than our conversation that we did not even know it. But today’s life has given us many facilities that we have almost forgotten if we walk Sometimes exercises try to walk.
The same situation is about to climb the stairs and work of the house that is the rule of machines on every side. These machines have given us comfort, time-saving, and convenience as well as unhealthy weight and infinite diseases as bonuses. We feel that thing, but we do not make any serious effort to procure it before it was assumed that exercise is only essential and beneficial for older people, but now we look at ourselves if we look around. That exercise is essential only since childhood.
Because now, instead of healthy children, two types of children are seen. Along with looting or obesity. If such children work, they should sit on TV or computer sitting in front of the right to the right and then on the left side to the right side and every second of the food. Yes, parents are scared to take them out on a walk. For example, in a shopping mall or amusement park, where a two-hour retreat but slowly deficient, the fast food and soft drinks are returned to a deliciously decorated home that works well.
This is the fact that there is an increase in weight by the rest of your comfort, whose minds are when they look at a woman who is underweight and then takes care of eating it to mislead this grief. Are there They also carry the weight of their increased weight on the way in the way the weight weighs. And she wakes up, wakes up, and drinks overweight and worried.
But the person who starts a serious effort to get rid of them. Yes, watching TVs and magazines, looking at the delicate vagina, the hunting hunt to be like them in the heart stays and various machines to exercise hands on this hobby are also decorated. After a few days, clothes are used to spread and teach clothes.
A “worker” version of reducing quick weight for such women is that the use of make-up should be left immediately. A few kilograms of weight will be reduced with a guarantee. Some reduction in cosmetics will result in avoiding “bitterness” but the slightest reduction will be due to deep shock due to seeing your face without exercising if exercising exercises can only be reduced by weight loss. But no fatigue or overweight woman might look.
But, “Hey, I’m sorry.” However, the world is established on hope. People suffering from reducing and controlling increased weight, if invited to an invitation, see their plummeted plates while eating, it seems that they are not only hostile but are also very angry with themselves because of the loss of both There is a lot of effort to do it at once. The loss of exercise does not appear to be a disadvantage, but the benefits of non-exercise work, yes! Benefits make many other people.
Eg first. The doctors, Hakim and Gym instructors say that they are relieved and dependent on the clinic, poem and gym from the tail of the deceased people. Electronic media and newspapers etc. that contain excessive metabolism and reduce the risk of obesity.
Because obesity is a source of income for many people. So besides stains, now even for motors can say that obesity is good if others are. ” The story is all aware of the importance of short workout. And also want to exercise. But the problem is that nobody has time to exercise and they can also do regularly. It can be said in such a way that, “I wish I could use a machine that used to exercise and sleep while using Gold, TV, and NET, and by using a drink.
“It is time to consider that we have time to use TVs, computers, cell phones. We can reduce the number of people through the phone by interrupting hours, but reducing our weight loss. We do not have the daily fifteen twenty-five minutes. Many people who are overweight have to say that thinking about this issue is just smart and active only by thinking that today it is a smart body to become smart Start exercising. (It was written during the formation of Jeddah. Therefore reflects the environment there. But now there are similar situations in the big cities of Pakistan too.

خواتین و حضرات اگر زندگی سے پیار ہے تو ورزش کیجئے اور اپنے آپ کو چلتا پھرتا رکھئے ورنہ بہت جلد آپ کی صحت آپ کو زندگی کی دوڑ سے چلتا کر دے گی۔ وہ دن گئے جب ورزش ہماری گفتگو کی بجائے ہماری زندگی میں اس طرح جاری و ساری رہتی تھی کہ ہمیں خود بھی اس کا علم نہیں ہوتا تھا۔مگر آج کی زندگی نے اتنی سہولتیں دی ہیں کہ ہم پیدل چلنا تو تقریبا بھول ہی گئے ہیں صرف بطور ورزش کبھی کبھار چلنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔یہی حال سیڑھیاں چڑھنے اترنے اور گھر کے کام کاج کا ہے کہ ہر طرف مشینوں کا راج ہے۔ان مشینوں نے ہمیں آرام، وقت کی بچت اور سہولتوں کے ساتھ ساتھ بے تحاشا وزن اور لاتعداد بیماریاں بونس کے طور پر دی ہیں ۔ اس چیز کا ہمیں احساس تو ہے مگر اس کے تدارک کے لیے ہم کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے پہلے تو یہ مفروضہ تھا کہ ورزش صرف بڑی عمر کے لوگوں کے لیے ہی ضروری اور فائدہ مند ہے لیکن اب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ورزش تو بچپن سے ہی ضروری ہے۔

کیونکہ اب تو صحتمند بچوں کی بجائے دو قسم کے بچے نظر آتے ہیں۔لاغر یا پھر موٹاپے سے ہانپتے ہوئے۔ ایسے بچے ورزش کرتے تو ہیں مگر اول الذکر کھانے کی ہر آفرپر سر دائیں سے بائیں ہلانے کی اور ثانی الذکر ہر وقت منہ چلانے کی وہ بھی ٹی وی یا کمپیوٹر کے آگے بیٹھے بیٹھے۔ ہاں والدین گاہے بگاہے انھیں باہر سیر پر بھی لے جاتے ہیں۔ مثلا کسی شاپنگ مال یا تفریحی پارک میں جہاں ایک دو گھنٹے کی مست خرامی بلکہ سست خرامی کے بعد فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنکس کے ڈبے تھامے ہوئے شاداں و فرحاں گھر کو لوٹتے ہیں کہ اچھی خاصی واک یعنی ورزش کر آئے۔یہی حال بیگمات کا ہے جو اپنی آرام طلبی کے ہاتھوں اپنا وزن بڑھا لیتی ہیں جس کی فکر انھیں اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے سے کم وزن کی کسی خاتون کو دیکھتی ہیں اور پھر اس غم کو غلط کرنے کیلے کھانے پینے کا ہی سہارا لیتی ہیں۔ یہ اپنے بڑھے ہوئے وزن کی فکر کو بھی اس طرح سے اپنے اوپر سوار کر لیتی ہیں جس طرح بڑھا ہوا وزن۔ اور اس زائد وزن اور اس کی فکر کے ساتھ سوتی جاگتی،اٹھتی بیٹھتی،اور کھاتی پیتی رہتی ہیں۔لیکن مجال ہے جو ان دونوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے کسی سنجیدہ کوشش کا آغاز کر لیں۔ ہاں ٹی وی اور رسائل وغیرہ میں نازک اندام حسینائیں دیکھ دیکھ کر دل میں ان جیسی بننے کا شوق ٹھاٹھیں مارتا رہتا ہے اور اس شوق کے ہاتھوں ورزش کرنے کی مختلف مشینیں بھی لا کر گھر کی زینت بنا دی جاتی ہیں۔ جو چند دن کے استعمال کے بعد کپڑے پھیلانے اور سکھانے کے کام آتی ہیں۔ایسی خواتین کے لئے فوری وزن کم کرنے کا ایک “کارگر” نسخہ یہ ہے کہ میک اپ کا استعمال فورا سے پیشتر چھوڑ دیں۔گارنٹی کے ساتھ چند کلو گرام وزن فوری کم ہو جائے گا۔ اس میں کچھ کمی تو کاسمیٹکس “تھوپنے” سے گریز کے باعث ہو گی مگر ذیادہ کمی میک اپ کے بغیر اپنا چہرہ دیکھنے سے ہونے والے گہرے شاک کے باعث ہو گی اگر صرف زبان چلانے کی ورزش یعنی بولنے سے وزن کم ہو سکتا تواس روئے زمیں پر شاید کوئی بھی فربہ یا زائد وزن والی خاتون نظر نہ آتی۔مگر،” اے بسا آرزو کہ خاک شد۔” بہرحال امید پر دنیا قائم ہے۔ بڑھے ہوئے وزن کو گھٹانے اور قابو میں رکھنے سے پریشان لوگ اگر کسی دعوت میں مدعو ہوں تو کھانے کے وقت ان کی لبالب بھری پلیٹیں دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ نہ صرف میزبان سے بلکہ اپنے آپ سے بھی سخت ناراض ہیں اس لیے دونوں کا نقصان بیک وقت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ورزش نہ کرنے کے نقصانات تو ظاہر ہے ورزش نہ کرنے والے ہی بھگتتے ہیں لیکن ان کی ورزش نا کرنے کے فائدے جی ہاں !فائدے کئی دوسرے لوگ اٹھاتے ہیں۔مثلا پہلے نمبر پر۔ ڈاکٹر،حکیم اور جم انسٹرکٹرز حضرات کہ ان موٹاپے کے ہاتھوں ستائے ہوئے لوگوں کے دم سے ہی کلینک،مطب اور جم پر رونق اور آباد ہیں۔دوسرے نمبر پر آجاتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات وغیرہ کہ جن کو ملنے والے اشتہارات نصف سے ذیادہ مٹاپا کم کرنے اور مٹاپے سے ہونے والے امراض کو دور کرنے والی ادویات وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں۔گویا کہ مٹاپا کئی لوگوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔تو داغوں کے علاوہ اب موٹاپے کے لیے بھی کہہ سکتے ہیں کہ “مٹاپا تو اچھا ہوتا ہے اگر دوسروں کا ہو۔” قصہ مختصر ورزش کی اہمیت سے سب آگاہ ہیں۔ اور ورزش کرنا بھی چاہتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ ورزش اور وہ بھی باقاعدہ کر سکے۔ ایسے میں یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ،”کاش کوئی ایسی مشین ایجاد ہو جائے جو سونے ،ٹی وی اور نیٹ استعمال کرنے اور کھانے پینے سے شغل کے دوران ہمیں ورزش کرا تی رہے اور سمارٹ بنا دے۔”غور کرنے کی بات ہے ہمارے پاس ٹی وی،کمپیوٹر،سیل فون استعمال کرنے کے لئے وقت ہی وقت ہے۔ فون پر ہم گھنٹوں مشغول رہہ کر “غیبت” کے ذریعے لوگوں کے گناہ کم کر سکتے ہیں۔ مگر اپنا فالتو وزن کم کرنے کے لیے ہمارے پاس روزانہ کے پندرہ بیس منٹ بھی نہیں ہیں۔ زائد وزن کے ستائے ہوئے لوگوں سے عرض ہے کہ اس مسئلے پر سوچنا چھوڑئیے کہ سوچنے سے صرف دماغ ہی سمارٹ اور ایکٹو رہتا ہے۔ جسمانی طور پر سمارٹ بننے کے لیے آج ہی سے ورزش کا آغاز کر دیں۔(یہ جدہ میں قیام کے دوران لکھا گیا تھا۔اس لیے وہاں کے ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔لیکن اب پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی حالات کم و بیش ایسے ہی ہیں)

source UrduPoint.

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Check Also
Back to top button
error: Content is protected !!