Health Is a Wealth

Environmental Terrorism and Green Jihad

Environmental Terrorism and Green Jihad

It is evident to almost all readers that the environment is at risk for more than ever before. Increasing pollution of soil, water, and air poses an ever-greater threat to the environment and is causing irreparable harm. It is no secret that the natural environment has a profound impact on the human soul and its body, as well as its life and life.

On the other hand, many experts, especially psychologists, say that the general frustration of humans and many spiritual and psychological disorders in modern times are linked to environmental pollution and the destruction of the environment has a negative impact on people’s attitudes and affects people and societies. Have also had a devastating effect on morality.
In the Holy Qur’an, Allah Almighty says:

“The vegetation of the pure land grows by the will of Allah and from the noisy land it grows nothing but fruitless and worthless vegetation.”(Surah A’raf: 58)

This ice cream uses the pure nature and effect of growing the earth, vegetables and fields as well as it is effective in the growth and development of human beings, and the as noisy compound is nothing but dust, valuable grass. Aggression, as well as the polluted environment, has a negative impact on human training. At the beginning of his Khilafah, Hazrat Mawla Ali al-Murtaza al-Karimah al-Karim said in a sermon: Environmental Terrorism and Green Jihad

“Avoid the opposition of Allaah in the matter of the servants and the people of Allaah.
Because you have been entrusted with (the protection of) different lands and cattle. ”

Allah’s Apostle and his Companion, Rizwan Allahu Alaihimah, have many such orders in the Quran and Hadiths, which show us that Islam requires the adherence to the practical principles of the environment and its human life. The Universe reveals itself as one of the core members of survival.

The Industrial Revolution, which took humans to the moon, stars and black holes, was able to satisfy the human intellect by making surprising discoveries in the field of astronomy, but alas! That man in the eyes of heaven, in his footsteps, became careless of the land, said, poet:
Is the government of death machines for the heart.

Sense Marwat Accessories
The result of this careless and innovative behavior comes to us in the form of newspapers, such as a news release on June 2019, which reported that 40 kilograms of plastic shells were recovered from the stomach of a whale fish. Environmental Terrorism and Green Jihad
Four of the ten ASEAN countries in the ASEAN countries suffer from the worst plastic pollution in the world, including Indonesia, the Philippines, Vietnam, and Thailand. Research published on March 15, 2019, by Patrick Wet, states that the annual production of plastics worldwide is 300 million tons, of which about 5 trillion pieces of plastic float in our oceans.

This is the scientist’s estimate. According to a survey report dated December 18, 2018, according to a global survey conducted in the same year 2018, 90 percent of the world’s produce is not plastic recycled.
At the ASEAN conference, China’s fastest-growing power plant was accused of being the country that threw plastic waste into the oceans.
On the other hand, according to a study published on PHYS.org on June 25, 2019, the United States, which has smelled the smell of brutality, cruelty and dynamite in the contemporary world, reported that the US military purchased 2,69,230 barrels of oil daily in 2017, And burned the oil and emitted more than 25,000 kilotons of carbon dioxide.

The current and future world powers, in their own way, are causing the liver, the environment, to poison the killer, and in many cases, we are seeing in many cases that man has become alert to physical and spiritual ailments. That the nearby fire should also be covered.
Here I would like to mention a piece of Amjad Islam Amjad’s writing that was written on board saying that no flowers were broken but the blinds were still reading. Today’s world powers are placing conferences for the public, but they are destroying the flowers (environment), like a blind eye itself.

Now we have to fight against the glaring forces of our time and not just the simple jihad in defense of the environment, but in the two simplest ways of this jihad I am offering my readers service, one is to turn our society away from plastic products. We also need to take some practical steps by giving our own advice, secondly, that at least one tree should be gifted to the earth every year on the occasion of its anniversary in such a way that it can be preserved until it grows. Environmental Terrorism and Green Jihad

If every person living on this earth incorporates such practices into their life exercises and hobbies, not only will it be an effective step in the elimination of environmental pollution, but also in the physical and spiritual relief, satisfaction and comfort in worldly life. Along with this, the Day of Judgment will bring a better reward from its Lord. As Imam Jafar Sadiq (may Allaah have mercy on him) said:

“Plant the tree! Of all the works of God which are performed for their lives, nothing is better than that.”

Environmental Terrorism and Green Jihad

یہ بات تقریباً تمام قارئین پر عیاں ہے کہ ہر دور سے زیادہ آج کے دور میں ماحولیات معرضِ خطرہ و نابودی میں ہیں۔ مٹی، پانی اور ہوا کی آئے دن بڑھتی آلودگیاں، ماحولیات کے لئے ہمیشہ سے زیادہ خطرہ بنی اور اسے ناقابلِ تلافی نقصان پنہچا رہی ہیں۔ یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں ہے کہ طبیعی ماحولیات، انسان کی روح اور اس کے بدن، نیز اسکی زندگی اور حیات پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔
دوسری طرف، بہت سے ماہرین، بالخصوص ماہرینِ نفسیات کے مطابق عصرِ حاضر میں انسان کی عام مایوسی اور بہت سے روحانی اور نفسیاتی امراض، ماحولیاتی آلودگی سے ربط رکھتے ہیں اور ماحولیات کی تخریب نے لوگوں کے رویوں پر منفی اثر چھوڑا اور افراد اور معاشروں کے اخلاق پر بھی تخریبی اثرات مرتب کیے ہیں۔

قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے کہ: “پاکیزہ زمین کا سبزہ اللہ کے حکم سے اُگتا ہے اور شورے والی زمین سے بے سود اور بے ارزش سبزے کے سِوا کچھ نہیں اُگتا۔” (سورہ اعراف:58)

اس آیۃ کریمہ سے استفادہ ہوتا ہے کہ جسطرح پاک طبیعت اور زمین، سبزے اور کھیتوں کے بہتر اُگنے میں مؤثرہے، اسی طرح یہ انسان کے رشد و کمال میں بھی مؤثر ہے اور جسطرح شورے سے مرکب مٹی، بے ارزش گھاس پھوس کے سِوا کچھ نہیں اُگاتی، اسی طرح آلودہ ماحولیات بھی انسان کی تربیت پر منفی تاثیر اور بُرے اثرات چھوڑتی ہیں۔ حضرتِ مولا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنی خلافت کے آغاز میں ایک خطبے میں ارشاد فرمایا کہ:

“اللہ تعالٰی کے بندوں اور آبادیوں کے معاملے میں اللہ تعالٰی (کی مخالفت) سے بچو۔کیونکہ تمہیں تو مختلف سر زمینوں اور چوپایوں کی (حفاظت کی) بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔”

اللہ تعالٰی اسکے رسولؐ و اہل بیتؑ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس قسم کے بہت سے احکامات قرآن و کتبِ احادیث میں موجود ہیں جن کے ذریعے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اسلام ماحولیات کے عملی اُصولوں کی پابندی کی ضرورت اوراسے انسانی زندگی اور عالمِ ہستی کی بقاء کے ایک اساسی رکن کی حیثیت سے اُجاگر کرتا ہے۔
صنعتی انقلاب جہاں انسان کو چاند، ستاروں اور بلیک ہولز تک لے گیا، علمِ فلکیات کے میدان میں حیران کُن انکشافات کر کے انسانی عقلوں کو خیرہ کرنے میں بھی کافی حد تک کامیاب ہوا لیکن افسوس! کہ آسمان کی جانب نگاہ میں انسان اپنے قدموں میں بچھی زمین سے بے پرواہ ہوگیا، بقول شاعر:
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
اس لاپرواہی اور جدتی بےراہ روی کا نتیجہ آئے روز مختف اخبارات کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے مثلاً جون 2019ء میں ایک خبر شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ایک وہیل مچھلی کے پیٹ سے 40 کلو گرام وزنی پلاسٹک آلائشوں کا گولہ برآمد ہوا۔ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے دس میں سے چار ممالک دنیا بھر میں سب سے زیادہ پلاسٹک آلودگی کا شکار ہیں، انمیں انڈونیشیا، فلپائین، ویتنام اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ 15 مارچ 2019ء کو پیٹرک گیلے کی شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں پلاسٹک کی سالانہ پیداوار 300 ملین ٹن ہے، جس میں سے تقریباً 5 ٹرلین پلاسٹک کے ٹکڑے ہمارے سمندروں میں تیرتے ہیں۔یہ سائنسدانوں کا اندازہ ہے۔ سکیری سٹیٹسٹکس 18 دسمبر 2018ء کو ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی سال 2018ء میں کیے گئے ایک عالمی سروے کے مطابق پتہ چلا کہ دنیا میں پیدا ہونے والا ساڑھے نوے فیصد پلاسٹک ریسائیکل نہیں ہوتا۔
آسیان کانفرنس میں دنیا کی تیزی سے اُبھرتی طاقت چین پرالزام عائد کیا گیا کہ سمندروں میں پلاسٹک کا کچرا سب سے زیادہ پھینکنے والا یہی ملک چین ہے۔دوسری جانب عصرِ حاضر میں سفاکیت، ظلم اور بارود کی بُو کو عام کرنے والے ملک امریکہ کے متعلق 25 جون 2019ء کو PHYS.org پر شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ امریکی فوج نے 2017ء میں یومیہ 2،69،230 بیرل آئل خریدا، اور اس تیل کو جلا کر تقریباً 25000 کلو ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کیا۔
موجودہ اور مستقبل کی کہی جانے والی عالمی طاقت اپنے اپنے انداز میں کرۂ ارض کے جگر یعنی ماحول کو جسطرح زہرِ قاتل سے مُردار بنا رہی ہیں اس کا نتیجہ ہم لاتعداد صورتوں میں دیکھ رہے ہیں کہ انسان جسمانی اور روحانی بیماریوں کی وہ چِتا بن چُکا ہے کہ قریب لگنے والی آگ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے جائے۔یہاں امجد اسلام امجد کی ایک تحریر کا ٹکڑا ذکر کرنا چاہوں گا کہ ایک تختی پر لکھا تھا کہ کوئی بھی پھول مت توڑے مگر آندھی تو اَن پڑھ تھی۔۔۔ آج کی عالمی طاقتیں عوامِ عامہ کے لئے تو کانفرنسوں میں تختی لگا رہی ہیں لیکن خود اندھی آندھی کی طرح پھولوں (ماحولیات) کو تباہ کرتی جارہی ہیں۔
اب ہمیں اپنے دور کی طاغوتی طاقتوں کے خلاف اور ماحولیات کے دفاع میں سُرخ جہاد نہیں بلکہ سبزجہاد کرنا ہے، اس جہاد کے دو آسان طریقے میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہوں، ایک یہ کہ اپنے معاشرہ کو پلاسٹک مصنوعات سے اعراض برتنے کی آگہی دینے کے ساتھ ہمیں خود بھی کچھ عملی قدم اُٹھانا ہوگا، دوسرا یہ کہ اپنی ہر سالگرہ کے موقع و نسبت سے ہر سال کم سے کم ایک درخت اس انداز میں زمین کو تحفہ دیں کہ اُس کے تناور ہونے تک اس کی حفاظت کی جائے۔اگر اس زمین پر بسنے والا ہر انسان اس قسم کے عمل کو اپنی زندگی کی مشقوں اور مشغلوں میں شامل کر لے تو نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ میں مؤثر قدم ہوگا، بلکہ دنیوی زندگی میں جسمانی و روحانی راحت،اطمینان و سکون کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ روزِ قیامت اپنے رب سے بہتر جزا بھی پائے گا. جیسا کہ حضرتِ امام جعفر صادقؑ کا فرمان ہے کہ: “درخت لگاؤ! خدا کی قسم ان تمام کاموں میں سے جو لوگ اپنی زندگی کے لئے انجام دیتے ہیں کوئی بھی کام اس سے پاک تر نہیں ہے۔”

Source UrduPoint.

Show More

Mushahid Hussain

My Name is Mushahid Hussain Alvi I am a Web Designer

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Back to top button
Close
%d bloggers like this: