Tips & Suggestions

Breast cancer is dangerous but pre-cured

Breast cancer is dangerous but pre-cured

Breast cancer is dangerous but pre-cured

چھاتیوں کا سرطان ان خواتین میں زیادہ ہوا کرتا ہے جن کے یہاں یا تو اولاد نہیں ہوتی اور اگر اولاد ہو بھی جائے تو وہ اسے اپنا دودھ نہیں پلاتیں
WHOکے اعداد وشمار کے مطابق اکیسویں صدی کے اختتام تک کم ازکم بیس لاکھ خواتین کینسر سے ہلاک ہو جائیں گی جن میں سے 20فیصد کا تعلق ہندوستان و پاکستان سے ہو گا
ڈاکٹرپروین پر کاش
ICMRکے حالیہ اعداد وشمار کی تفصیل بہت ہو لناک ہے ۔

ان کے اعداد وشمار کے مطابق ہندوستان پاکستان کے بڑے شہروں میں خواتین بہت تیزی سے سینے کے سرطان کا شکار بنتی جارہی ہیں ۔
WHOکا یہ اندازہ ہے کہ اکیسویں صدی کے آخر تک کم ازکم بیس لاکھ خواتین اس کینسر سے ہلاک ہو جائیں گی ۔اور ان میں سے بیس فیصد کا تعلق ہندوستان اور پاکستان سے ہو گا جبکہ اسی فیصد پوری دنیا سے۔

اعداد وشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ چھاتیوں کا سرطان ان خواتین میں زیادہ ہوا کرتا ہے جن کے یہاں یا تو اولاد نہیں ہوتی اور اگر اولاد ہو بھی جائے تو وہ اسے اپنا دودھ نہیں پلاتیں۔

چھاتیوں کی یہ ہولناک خرابی کے ساتھ ایک مثبت بات یہ ہے کہ ابتدا ہی میں اس مرض کی تشخیص ہو سکتی ہے جبکہ اسی نوعیت کے سرطان اگر پھیپھڑوں یا جگر وغیرہ میں ہو جائیں تو ان کا اندازہ بہت دیر کے بعد ہوتا ہے ۔
اور تشخیص کے بعد اگر مریضہ پر مکمل اور بھر پور توجہ دی جائے تو پھر اس پر کنٹرول پایا جا سکتا ہے ۔اسی طرح اگر چھاتیوں میں ٹیو مر کا سراغ بروقت مل جائے تو سرجری کے ذریعے کا میابی کے ساتھ اس کا علاج ہو سکتا ہے ۔
لیکن برصغیر میں ابھی اس کا کامیاب علاج ایک سنہرے خواب کی طرح دکھائی دیتا ہے ۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں مختلف شعبوں کے ماہرین کے درمیان عدم تعاون کا فقدان ہے ۔یعنی ریڈیو لوجسٹ اور پیتھا لوجسٹ کے درمیان یا پھر سرجنوں کے درمیا ن۔یا پھر کسی قسم کا ٹیم ورک نہیں ہو پاتا ۔اس لئے اس کے علاج کے سلسلے میں دشواریاں پیش آنے لگتی ہیں ۔
کسی خاتون کے سینے میں اس قسم کے مہلک سرطان کے نشوونما کی کیا وجوہات ہوتی ہیں یہ ابھی تک حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکا ہے ۔بہر حال اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔مثال کے طور پر ۔

:وجوہات

1۔قبل ازوقت ایام کا جاری ہو جانا یعنی بارہ برس کی عمر سے پہلے ۔تیس سال کے بعد بچوں کی پیدائش یا پچاس سال کے بعد سن یاس (حیض کا بند ہو جانا جو عام طورپر پینتالیس اور پچاس کے درمیان ہوا کرتا ہے )
2۔بہت زیادہ اور طویل المدت اسٹیروجن اور پروگیسٹرون کی افزائش ۔
3۔بہت زیادہ کلوریز کا استعمال۔لیکن اسے ختم کرنے کے لئے جسمانی حرکتیں (ورزش وغیرہ )بہت کم ۔
4۔رات کے وقت بہت تیز روشنی میں رہنا۔
5۔نقصان دہ کیمیکلز کا استعمال۔جیسے آرگنا کلورائن ‘ڈیوڈرنٹس وغیرہ۔
پولینڈ میں ہونے والی حالیہ تحقیق کے مطابق اسٹیروجن اور پروگیسٹرون کا تعلق غذا اور توانائی کا تعلق اس کی بناوٹ سے ہے جو سینے میں کینسر کے جراثیم کا سبب بنتے ہیں ۔
خواتین میں سینے کے سرطان کے خطرے کو ان کی طرز زندگی تبدیل کرکے کم کیا جا سکتا ہے ۔
برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر خواتین زیادہ سے زیادہ جسمانی سرگرمیوں (ورزش وغیرہ)میں حصہ لیں اور کلوریز کا استعمال کم سے کم کریں تو اسٹیر وجن اور پروگیسٹو رون کی افزائش کم سے کم ہو جاتی ہے اور جن کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سینے کے سرطان کے امکانات کم سے کم تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔
کینسر پر ریسرچ کرنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ اگر غذا میں تازہ پھلوں اور سبزیوں کی مقدار اور بڑھائی جائے تو سینے کے سرطان کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔

:تشخیص کی تکنیک

کینسر کے خلاف ایک جنگ جاری ہے ۔
اس جنگ کو لڑنے والے سرجن ‘ریڈیولوجسٹ اور پیتھا لوجسٹ ہیں ۔انہوں نے اس کینسر کی تشخیص کے کئی زاوےئے تلاش کئے ہیں ۔
یہ امید کی جاتی ہے کہ آج کے جدید طریقہ کار (ڈیجیٹل میموگرافی ‘سونو میمو گرافی اور میگنیٹک ریزوینس امیجنگ)MRIاور بائیوپسی کے طریقے۔ایک سوئی کو سانس کے ذریعے اندر لینا‘ماماٹون اور اسٹیر یو ٹاکٹک سسٹم موجودہ دور میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لئے بہت کار آمد طریقے ہیں ۔
Mammography(کسی غیر شفاف عامل کے انجکشن کے بعد چھاتی کے ایکس رے جانچئے)۔
میمو گرافی اس مرض کی تشخیص کیلئے آئیڈیل ہے ۔
ہر ایکسرے کی طرح میمو گرافی میں بھی ریڈی ایشن کا اخراج بہت کم ہوا کرتا ہے ۔
عمر کے کسی بھی مرحلے پر سینے کے سرطان کی تشخیص کے لئے میمو گرافی طریقہ کار سب سے بہتر ہوا کرتا ہے ۔کیونکہ بعض اوقات بڑے سے بڑا ماہر اور تجربہ کار سرجن یا ڈاکٹر بھی اس مرض کی صحیح تشخیص نہیں کرپاتا۔
لیکن اس عمل کے ذریعے یہ تشخیص بالکل واضح ہو جاتی ہے۔
اس کی کار کردگی کا یہ حال ہے کہ یہ سینے میں موجود ننھے سے ننھے ٹیو مر کا بھی سراغ لگا لیتا ہے ۔چاہے وہ ٹیو مراعشاریہ پانچ سینٹی میٹر ہی کیوں نہ ہو۔
میمو گرافی کو اس لئے دوسرے طریقہ کار پرسبقت حاصل ہے ۔
وہ مریض جس کے سینے میں سرطان ہو ۔وہ کبھی اس کی وجہ سے نہیں مرتا۔ بلکہ اس کی موت اس وقت ہوتی ہے جب یہ سرطان جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنا شروع ہو جاتا ہے اور جگر ‘پھیپھڑے‘دماغ اور ہڈیاں وغیرہ اس کی زد میں آجاتی ہیں ۔
جب اس سرطان کو عام انداز سے چیک کیا جائے تو اس کا سراغ اس وقت ملتا ہے جب یہ سرطان اچھا خاصہ بڑھ چکا ہوتا ہے اوریہ لاکھوں کروڑوں خلیات کا ملغوبہ بن جاتا ہے ۔اور ان میں سے بے شمار خلیات ٹوٹ کر خون میں شامل ہو کر پورے بدن میں گردش کرنے لگتے ہیں ۔
اس لئے اگر میمو گرافی کے ذریعے ابتداء ہی میں اس کی تشخیص ہو جائے تو پھر علاج میں بہت آسانی ہو جایا کرتی ہے ۔
وہ عورت جسے اپنے سینے میں کوئی گانٹھ وغیرہ محسوس ہوا سے فوری طور پر کسی ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہئے۔
میمو گرافی کی مشین کے ذریعے ٹیسٹ کرتے ہوئے جتنی ریز خارج ہوتی ہیں وہ تقریباً اتنی ہی ہوتی ہیں جتنی دانتوں کے ایکسرے میں ہوا کرتی ہے ۔اس لحاظ سے بھی اس میں ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔
میمو گرافی تو بیس تیس برسوں سے رائج ہے ۔لیکن آئے دن جدید تحقیقات کی روشنی میں اس کے ذریعے تشخیص کو آسان سے آسان تر بنایا جاتا ہے ۔
اب سے بیس سال پہلے ا س عمل میں جتنے مرحلے تھے اب اس کا صرف دس فیصد رہ گئے ہیں اور اتنے ہی ریز کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جتنی ریز کا سامنا کوئی مسافر پرواز کے دوران کیا کرتا ہے ۔اس لئے ایڈوانس میمو گرافی سے تشخیص بہت آسان ہو گئی ہے ۔ان دنوں ایڈوانس ٹیکنالوجی کی بدولت ڈیجیٹل میمو گرافی ہونے لگی ہے ۔اس ڈیجیٹل میمو گرافی کے کئی پلس پوائنٹس ہیں ۔
جو رزلٹ یا تصویر آتی ہے اسے کمپیوٹر ڈسکس میں محفوظ کر لیتے ہیں ۔
امیجز کو اپنی ضرورت کے مطابق ‘سائز میں بڑا‘روشن اور واضح کیا جا سکتا ہے تاکہ ہر پہلو سے اسے دیکھا جا سکے ۔عام میمو گرافی میں یہ سہولت موجود نہیں ہے ۔اس سے صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں آسانی ہو جاتی ہے ۔
ڈیجیٹل میمو گرافی کے امیجز فون لائن کے ذریعے دوردراز کے کسی ماہر کو بھیجے بھی جا سکتے ہیں ۔

:مجوزہ ٹیسٹ

اس مرض سے محفوظ رہنے کے لئے خواتین کو چالیس سے پچاس سال کی عمر کے درمیانی 2سال میں ایک بار اپنا میمو گرام ضرور کراتے رہنا چاہئے۔
اور خاص طور پر اس وقت جب خاندان میں ایسا کوئی کیس ہو چکا ہو ۔اس وقت اس کی ضرورت زیادہ ہو جاتی ہے اور جب عورت پچاس سے کراس کر چکی ہو اس وقت سال میں ایک بار یہ ٹیسٹ کرنا بہت ضروری ہے ۔
سونو میمو گرافی جسمانی چیک اپ اور میمو گرافی کے بعد صرف سپلیمینٹ کے طور پر کرایا جا تا ہے ۔
آواز کی لہریں سینے کے اندر جا کر اندر کی تصویر اجا گر کرتی ہیں ۔
اس تکنیک کے ذریعے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ سینے کے اندر جو گانٹھ محسوس ہورہی ہے وہ واقعی تشویش کن ہے یا کوئی معمولی سی بات ہے ۔
وہ خواتین جو چالیس سے کم عمر کی ہوں ۔ان کے لئے الٹراساؤنڈ مناسب ہوا کرتا ہے ۔سوئی کے ٹھیک مقام پر جانے کے بعد درست بائیو پسی ممکن ہو جاتا ہے ۔
سینے میں کینسر کی تشخیص کے لئے MRIالٹراساؤنڈ یا میمو گرافی سے زیادہ بہتر ہوا کرتا ہے ۔
یہ طریقہ ان خواتین کے لئے کار آمد ہے جن کے جسم میں سلیکون داخل کیا گیا ہو جو کینسر کے دوبارہ لاحق ہونے کی نشاندہی کرتا ہے ۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میری لینڈ کے سائنس دانوں نے ایک نئی ہمہ جہتی Dimensional 3-ڈیوائس ایجاد کی ہے ۔جسے(HEI) Hall Effect Imagingکا نام دیا گیا ہے ۔
اس ڈیوائس کے ذریعے الٹراسانک لہریں پیدا کرکے بیمار یا صحت مند خلیات کا اندازہ کر لیا جاتا ہے ۔
اس ڈیوائس کے ذریعے غلط تشخیص کا امکان بہت کم رہ گیا ہے ۔

:بائیوپسی (Biopsy)

اس طریقہ کار میں سینے کے ٹشوز کا ایک ٹکڑا کاٹ کر مائیکرواسکوپ کے ذریعے اس کا معائنہ کرتے ہیں ۔
سینے کے اس ٹشو کو یا تو آسان سرجری کے زریعے یا پھر جسم میں ایک سوئی داخل کرکے حاصل کیا جاتا ہے ۔
سرجیکل بائیو پسی میں جلد کا ایک ٹکڑا وہاں سے کاٹ لیتے ہیں جہاں یہ خرابی واقع ہونے لگی ہے ۔
اس کے بعد جہاں تک سرطان پھیل چکا ہو اس پورے حصے کو ایک ٹکڑے کی شکل میں کاٹ کر علیحدہ کر لیتے ہیں ۔
دوسرا طریقہ سوئی کے ذریعے بائیپوسی کا ہے ۔
سرجیکل بائیپوسی کے مقابلے میں یہ طریقہ کار کم نقصان دہ ہوا کرتا ہے ۔کیونکہ اس میں سینے پر Cutکا کوئی نشان نہیں پڑتا۔

بائیپوسی کے طریقہ کار میں کئی طرح کی تکنیک استعمال کی جاتی ہیں ۔مثال کے طور پر:Fine Needle Aspiration Cytology(FNAC)
Core Needle Biopsy
Mammatone System and
Stereotactis Biopsy System
FNACسسٹم میں ایک ایسی سوئی استعمال کی جاتی ہے جو عام پن کی طرح ہوتی ہے اور جس میں مریض کو بے حس کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس کا رزلٹ چوبیس سے اڑتا لیس گھنٹوں کے درمیان آجاتا ہے ۔
کورنیڈل بائیوپسی میں بے حسی (Anesthasia)کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں بیس سے تیس منٹ لگ جاتے ہیں ۔سوئی کو سینے میں داخل کرنے کے لئے ایک گن استعمال کی جاتی ہے ۔
چاہے سونومیمو گرافی ہورہی ہو یا میمو گرافی ‘فزیشن اس سوئی کو اس کے ٹارگٹ میں داخل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس قسم کی بائیوپسی کے ذریعے ٹشوز کا ایک بڑا حصہ علیحدہ کردیا جاتا ہے ۔
اسٹیریوٹیکٹس سسٹم ایک کمپیوٹرائزڈ سسٹم ہے ۔اس کے ذریعے سینے میں پرورش پانے والے زخم کی نشاندہی کی جاتی ہے اور بائیوپسی کے لئے ٹشوز کو محفوظ کر لیا جاتا ہے ۔
یہ طریقہ کار خاص طور پر ان زخموں کی دریافت کے لئے بہت کار آمد ہوتا ہے جو اندر چھپے ہوئے ہوں اور جنہیں آسانی سے تلاش کیا جا سکے۔
یہ سارے جدید طریقے اس سرطان کے سراغ کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں ۔لیکن اس کے ساتھ ہی ایک خود تشخیصی نظام کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے ۔
ماہرین آج بھی خواتین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ خود اپنے طور پر تشخیص کے ان مراحل سے گزرتی ہیں ۔اور اپنے سینے میں کسی قسم کی گانٹھ کا احساس ہوتے ہی ڈاکٹر کے پاس پہنچ جائیں ۔اگر سینے کی یہ گانٹھ خطر ناک صورت اختیار کررہی ہے تو Lumpactomyکے ذریعے اسے علیحدہ کر دیا جاتا ہے اور اس سرطان کے آگے تک پھیل جانے کا اندیشہ ہے تو ایسی صورت میں یہ پورا اپستان کاٹ دیا جاتا ہے ۔
ایسی خواتین جن میں اس مرض کی علامات موجود ہوں اور آہستہ آہستہ پورے جسم میں پھیل جانے کا اندیشہ ہو ۔ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ پستانوں کو علیحدہ کروالیں ۔اس سے پہلے کہ یہ مرض پھیل جائے۔
اندازہ ہے کہ پستانوں کو علیحدہ کروانے کے بعد اس مرض کے امکانات نوے فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔

:حالیہ ترقی

یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سینے کے سرطان میں مبتلا عورتوں کے لئے یہ صرف آپریشن ضروری ہے بلکہ سرجری کے بعد ان کو کیمو تھراپی ‘ریڈ یو تھراپی‘ہارمون تھراپی اور امینو تھراپی کے مراحل سے بھی گزرنا پڑتا ہے ۔
یہ سارے طریقے ایک توازن کے ساتھ استعمال کرائے جاتے ہیں ۔تب جا کر اس مریض کو کینسر کی سرجری کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں ۔اس سے آگے یہ بھی دیکھنا ہو تا ہے کہ بیماری کس اسٹیج پر تھی ؟ایام کے دن کیسے جاتے ہیں ؟ٹیو مر کیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جس سرجن سے علاج کرایا گیا ہے اس کی مہارت اس شعبے میں کیسی ہے ؟
کینسر تھراپی میں ہونے والی حالیہ ریسرچ نے کینسر کی مریض خواتین کے لئے جادو کا کام کیا ہے ۔
مثال کے طور پر ہائی فریکوئنسی یا الٹراسونک ساؤنڈ کی لہروں کے ذریعے خون کے زیادہ زیاں سے بچتے ہوئے مریضہ کے پستانوں کو علیحدہ کرنے کا تجربہ کیا گیا ہے ۔
یہ عمل ان مریضاؤں کے ساتھ کیا گیا جن کا کینسر ابتدائی مرحلوں میں تھا۔
اس تکنیک میں الٹراساؤنڈ کے رزلت کی روشنی میں ایک خاص قسم کی باریک سوئی استعمال کی جاتی ہے ۔
یہ سوئی زخم (ٹیومر)میں واضح کر دی جاتی ہے ۔
یہ سوئی ٹیومر میں داخل ہونے کے بعد کسی چھتری کی طرح کھل جاتی ہے ۔اس کے بعد ہائی فریکوئنسی ویوز خطرناک ٹیومرکوکنٹرول کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں ۔
یہ ہائی فریکوئنسی ویوز ٹشوز میں پروٹین ‘ہائیڈروجن کو بونڈ کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے خون کا رساؤ بہت کم ہوجاتا ہے ۔

:جینیٹک رابطے

جینز کی دریافت نے اس مسئلے میں بھی پیش رفت کی ہے اور سائنس دانوں کو یہ سمجھنے کے قابل بنایا ہے کہ سینے کا یہ سرطان کن وجوہات کی بناء پر نشوونما پاتا ہے اور نہ صرف یہ بلکہ کس طرح اس سے بچا جا سکتا ہے ۔تجرباتی بنیاد پر ایک خراب کروموسوم کی جینیٹک انجنےئر نگ کے ذریعے مرمت کی جاتی ہے ۔
ایک ہسپتال کے ڈاکٹر نے خون کی جانچ کے ذریعے اس کینسر کی موجودگی کے امکانات کا جائزہ لینے کا طریقہ بھی دریافت کیا ہے ۔خون کے صرف ایک قطرے کے ذریعے اس مرض کا پتہ چلانے کے امکانات واضح ہو گئے ہیں ۔
اس کے علاوہ صحت مند اور مضبوط جین کو ٹیو مر میں داخل کرنے کا تجربہ بھی ہے ۔یہ صحت مند اور مضبوط جین سرطان کے ٹشوز کو تباہ کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔
اس کے علاوہ روایتی جڑی بوٹیوں کے ذریعے بھی سرطان کی دوائیں کشیدکی جارہی ہیں ان میں تلسی اور اشواگندھا کے پودے بھی ہیں ۔
ان پودوں سے حاصل کردہ ادویات ٹیومر کے خلیات سے Glutathionaکی مقدار کو کم کردیتے ہیں ۔جس کی وجہ سے ریڈی ایشن تھراپی زیادہ موثر ہو جاتی ہے ۔
سائنس دانوں کے تجزےئے کے مطابق سرطان کے ٹیومر اس وقت تک ایک ملی میٹر سے زیادہ نہیں ہوتے جب تک ان میں خون کی نئی سپلائی نہ قائم ہو۔
لمحہ بہ لمحہ
1۔پہلے مرحلے میں سینے کا سرطان ایک انچ کے قریب گانٹھ کی صورت میں صرف ایک پستان تک محدود رہتا ہے ۔
2۔دوسرے مرحلے میں یہ گانٹھ بڑھ کر دوانچ تک ہوجاتی ہے ۔اس کے ساتھ اُس طرف کے بغل میں گلینڈ نمودار ہو جاتے ہیں ۔
3۔تیسرے مرحلے میں گانٹھ کا سائز دوانچ سے کہیں زیادہ ہو جاتا ہے اور اس بغل کا گلینڈ بھی بہت بڑھ جاتا ہے ۔
4۔چوتھے مرحلے میں یہ پھوڑا یا زخم دوسرے پستان تک بھی پہنچ جاتا ہے اور اس کے ساتھ جگر ‘پھیپھڑے اور ہڈیاں وغیرہ بھی متاثرہونے لگتی ہیں ۔
سائیکل چلائیے کینسر بھگائیے
ہفتے میں تین گھنٹے سائیکل چلانے سے بریسٹ کینسر کے امکانات 34%کم ہو جاتے ہیں۔
تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ان عورتوں کے لئے جو باقاعدگی کے ساتھ سائیکل چلاتی ہیں ‘چھاتی کے سرطان (کینسر )کا خطرہ کم ہوجاتا ہے ۔جرمن محققین کے مطابق ہر ہفتے تین گھنٹے سائیکل چلانے سے اس مرض کا امکان 34%کم ہوجاتا ہے اور اگر اس سے زیادہ سائیکل چلائی جائے تو خطرہ مزید گھٹتا چلا جاتا ہے ۔لیکن ریسرچ کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ شاید وہ اس نتیجے پر اس وجہ سے پہنچے ہوں کہ لوگوں کو دوسری ورزشوں کے مقابلے میں سائیکل چلانے کی ورزش زیادہ یادرہ جاتی ہے ۔اس تحقیقی مطالعے میں 45سال سے کم عمر کی ایسی400خواتین کو شامل کیا گیا تھا جو ابھی ماہواری بند ہونے کے دور میں داخل نہیں ہوئی تھیں ۔مگر چھاتی کے کینسر کا شکار ہو چکی تھیں ۔ان کے ساتھ ساتھ 880صحت مند خواتین کو بھی زیر مطالعہ لایا گیا تھا جنہوں نے اس کے لئے خود کو رضا کارانہ طور پر پیش کیا تھا۔ان سب سے یہ پوچھا گیا کہ وہ 12سے19سال کی عمر تک اور پھر 20سے30سال کی عمر تک کس طرح ورزشیں کرتی رہیں تھیں ․․․ہلکی ‘درمیانی یا سخت ۔ہیڈل برگ کے جرمن کینسر ریسرچ سینٹرکی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائیکل چلانے کی بڑھتی ہوئی سرگرمی کے ساتھ ساتھ چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم ہوتا چلا جاتا ہے ۔سائیکلنگ کے علاوہ کھیلوں میں شرکت بھی عورتوں میں چھاتی کے کینسر سے محفوظ رہنے میں مدد دیتی ہے۔
برطانیہ میں کینسر پر ریسرچ کرنے والی ایک خاتون کلےئر اسٹیونس کہتی ہیں کہ خواتین جو ایام کے دور سے گزررہی ہوں ‘ورزش کے ذریعے سے کینسر سے بچاؤ کے خاصے امکانات ہیں ‘لیکن ان عورتوں کے بارے میں یہ بات ابھی پورے یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی جو ماہواری بند ہو جانے کے دور میں داخل نہیں ہوئی ہیں ۔وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ سائیکلنگ کسی دوسری نوعیت کی ورزش کے مقابلے میں بہتر نتائج دے سکے۔
مسز اسٹیو نسن کے مطابق اس کے اشارے تو ملتے ہیں کہ جسمانی طور پر فعال رہ کر کینسر سے بچا جا سکتا ہے ‘مگر سائنس دان اب تک اس کی وجہ بتانے سے قاصر رہے ہیں۔

Breast cancer is more common in women who do not have children either, and if they are children, they do not feed their milk.
According to WHO figures, at least two million women will be killed by the end of the eighth century till 20 percent of which will be related to India and Pakistan.
Wish the doctor
The recent statistics of ICMR is very descriptive.

According to his figures, women in India’s big cities are becoming increasingly vulnerable to chest cancer.
WHO estimates that by the end of the eighth century, at least two million women will be killed by cancer. And twenty percent of them will be from India and Pakistan, and that percentage of the entire world.

Statistics show that cancer of the breast does more in those women who do not have children either and if they are children, they do not feed their milk.

A positive thing with this horrible illness of the breast is that initially it can diagnose the disease, while the same type of cancer occurs in lungs or liver etc., it is estimated after a long time.
And after diagnosis, full and full attention is given to the patient, then it can be controlled. Similarly, if the tep die in the breast is found in a timely manner, it can be cured with surgery. .

But now the successful treatment in the occupation looks like a dream.
One reason for this is that there is a lack of non-cooperation between the experts of various fields here. Neither the kind of teamwork is done between the orange radio logistics and the python logistics, or the surgery of the surgeon. There are problems with the treatment. Breast cancer is dangerous but pre-cured

What causes the cause of this kind of deadly cancer in a woman’s chest, it has not yet been found to be finalized. However, there may be many reasons.

causes:

1. Early exposure to the age of – ie, twelve years ago .Then twenty years after the birth of children or after fifty years Sunnis (closure of menstruation, which usually occurs between fifty and fifty)
2.
Enormous and long-term stereotypes and prostosterone enzymes.
3. Excessive chloris use. But physical activity (exercise etc.) to eliminate it is very low.
4. Stay at a fast light at night.
5. Use of chemical chemicals. As Organic chlorine ‘defenses etc.
According to recent research in Poland, estrogen and prostitutes relate to food and energy, which cause chest cancer germs.

Chest cancer in women can be reduced by changing their lifestyle.
A report published in the British Medical Journal has suggested that if women take part in more physical activities (exercise etc.) and minimize chloris, then the stereotypes and prolonged growth of the progeny rhinestone decreases. And the result is that the chances of chest cancer occur at least. Breast cancer is dangerous but pre-cured

The researchers on cancer say that if the amount of fresh fruit and vegetables in the diet increases and the chances of chest cancer decrease.

Diagnostic techniques:

A fight against cancer continues.
Surgeon who is fighting this war is a radiologist and a pious logist .He has found many years of diagnosis of cancer.
It is expected that today’s modern methodology (Digital Memoography) Suno Memo Graphics and Magnetic Resistance Imaging (MRI) and Biopassic methods.
Inhalation of a needle ‘Maamontone and Stair Yu Tactic System are very effective for diagnosis of breast cancer in the present period.
Mammography (examine x-ray breast after injection of a non-transparent factor).
Memo is ideal for diagnosing this disease.
Reduce the emission of radiation even in memo graphics like every one.

Memo graphics method is best to diagnose chest cancer at any stage of age. Because a large number of professionals and experienced surgeons or doctors can not accurately assess the disease.
But through this process this diagnosis becomes clear.
It is a matter of caring for it, it also traces the tiny dead body from the present in the chest. Breast cancer is dangerous but pre-cured
Whether he is not five tonnes of tea.
Memo-graphics is therefore achieved by other means.
The patient in whose chest is cancer. He never dies due to that. Instead, it is the time when it starts spreading in other parts of the body, and liver ‘lungs’, skin and bones, etc..

When this cancer is diagnosed normally, its symptoms are found when the cancer has grown in a good way, and it combines millions of cells. And many of them are broken into the blood. They start rotating in the entire body.
Therefore, if a diagnostic starts with a memo-graphus, then it becomes very easy to treat.

A lady who should have felt lonely in her chest should immediately refer to a doctor.
The amount of discharge by testing through a memo-graphic machine is almost as much as possible in the teeth of the teeth. In this sense there is no such risk.
Memo has been published for twenty years.
But on the day, modern research is made easy to diagnose in the light of it. Breast cancer is dangerous but pre-cured
Since now twenty years ago, there were only ten percent of the stages in the operation, and they have to face the same reset. What does a traveler face during a travel flight? For Advance Memo Evaluation has become very easy. Instead of advanced technology these days, digital memo has begun.
There are several plus points of digital memo graphics.
The record or image that comes in is stored in computer discs.
Images can be described as ‘larger resolution’ in size as per your requirement so that it can be viewed in every aspect. This feature does not exist in the human memo. It makes it easier to reach the correct result.
Images of digital memo graphics can also be sent to a specialist via phone line.

Proposed test:

To protect this disease, women should be keeping their memo gram once in the middle of the age of 40 years.
And especially when there is such a case in the family at this time, then its need is more and it is very important to test this once a year once the woman has crossed the cross.

The gold memo is only used as a presenter after physical checkup and memo.
The sound waves fall in the chest and fall inside the picture.
Through this technique it becomes known that the feeling of lumps inside the chest is really worried or it is a minor matter.
Women who are under the age of forty years old.
The ultrasound is suitable for them. True biopathy is possible after going to the right place of Sai. Breast cancer is dangerous but pre-cured
MRI improves better than ultrasound or memo for diagnosis of cancer in the chest.
This method is the work of women who have entered silicone in the body, which indicates the resettlement of cancer. The National Institutes of Health Maryland scientists invent a new dimensional dimensional 3-device inventory. Is .
The name of the HEI Hall Effect Imaging is named.
By diagnosis of ultrasonic waves through this device, ill or healthy cells are estimated.
Invalid diagnosis is likely to be very low through this device.

Biopsy:

In this procedure cut a piece of chest tissue and examine it through microscope.
This chest tissue is obtained by either easy surgery or by adding a needle in the body. Breast cancer is dangerous but pre-cured

In a surgical biochemistry, a piece of skin cuts out of there where the problem is occurring.
After that, as far as the cancer has spread, it cuts the entire part into a shape and separates it.
The other way is Biopsy through Sui.
Compared to surgical biopsy, this procedure is less harmful because it does not contain a cut on the chest.

Many types of techniques are used in the biopsy procedure .For example:

Fine Needle Aspiration Cytology (FNAC)
Core Needle Biopsy
Mammatone System and
Stereotactis Biopsy System
A soy is used in the FNAC system that is like normal pin and in which the patient does not need to be irritable and its risks arise between twenty-four and twenty-four hours.

Carnival requires anesthasia and takes twenty to 30 minutes. A gun is used to enter the chest in the chest.
Whether the harmonic graphics or memo-graphic ‘fiction tries to put this needle into its target, this type of biosphere separates a large part of the tissue. Breast cancer is dangerous but pre-cured

The stereotypes system is a computerized system. It is characterized by a wound that is absorbed in the chest and tissue is stored for biopsy.
This procedure is particularly useful for the discovery of the wounds that are hidden inside and easily discovered.
All of these innovative methods are used to diagnose this cancer.
But as well as an auto diagnostic system is also advised.
Experts today still suggest women to follow their steps of evaluation on their own .And reach your doctor as soon as possible in your chest, feel free .If this chest of the chest is in danger If it is separated by Lumpactomy and it is likely to spread further to the cancer, then in such a case, this entire waste is cut off.

Women who have symptoms of this disease and are gradually afraid to spread throughout the body. It is better for them to separate the lips before it is spreading.
It is estimated that after the separation of the lips, the likelihood of the disease decrease to 9 percent.Breast cancer is dangerous but pre-cured

Recent development :

It has been proved that this operation is essential only for women suffering from chest cancer, but after surgery they have to go through the steps of chemotherapy ‘Red Y Therapy’ -Hormone Therapy and Amino Therapy.

All these methods are used with a balance. By going, the patient can get the maximum benefits of cancer surgery. To see further, what stage was the illness on? How do you go? What is the tie die and above all, how is the skill given to the surgery that is in this sector?
Recent research in cancer therapy has done magic for women for a patient.

For instance, through high frequency or ultrasonic sound waves, tissue patients have been tested to separate patients’ lungs.
This procedure was done with patients with cancer in the early stages.
This technique uses a special type of soybean light in the light of ultrasound razoret.
It is cleared in the needle injury (tumor). Breast cancer is dangerous but pre-cured

This soy opens like a canopy after entering the tumor. Then high frequency waves are used to detect dangerous tumors.
These bounce the protein ‘hydrogen in high frequency vaccine tissue due to which the risk of bleeding is greatly reduced.
Genetic contact
Jane’s discovery has also progressed in this problem and scientists have been able to understand that chest’s growth causes growth due to its causes and how it can be saved, not only by it.
On the experimental basis, a damaged chromosome genetic engineer is repaired by nig.
A hospital’s doctor has also discovered how to examine the possibility of the presence of the cancer through blood test. The chances of detecting the disease through just one drop of blood have become apparent.
Apart from this, there is also an experienced healthy and strong gene to enter the tio die.
It can cause healthy and strong genes to destroy the tissues of cancer. Breast cancer is dangerous but pre-cured
Apart from traditional herbs, cancer medicines are also strained, including Tasasi and Ashgagandha plants.
The drugs obtained from these plants reduce the amount of glutathiona from tomer cells. Due to this, radiation therapy becomes more efficient.

According to Scientists’ analysis, cancer tumors do not exceed a millennium until they have new blood supply installed.
Moment moment
1. In the first stage, chest cancer is limited to one foot only in the form of limb near an inch.
2. In the second phase, this lump increases up to the density. With this side, the flowers appear to be visible.

3. The size of the lump in excess of the third phase exceeds the size of the density, and the flower of the armpit also increases.
4. In the fourth phase, the thumb or wound reaches the second leg, with which liver ‘lungs and bones’ are also affected.
Run cycles run cancer
Running a three-hour cycle in the week reduces the risk of breast cancer by 34%. Breast cancer is dangerous but pre-cured

Research suggests that the risk of breast cancer for those women who regularly conducts cycles reduces the risk of breast cancer. According to German researchers, cycling every three hours reduces 34% decrease every week. And if more cycles are run than this, the risk gets diminished. But the researchers also say that they have come to this end because of the fact that the exercise of cycling runs more often than other exercises. Is .
This research study included 400 women under 45 years of age who had not yet been admitted during the period of menstrual cycle. Although breast cancer was infected, they also brought 880 healthy women under study Had been self-explicitly presented to him. All of them were asked how they were exercising for 12 to 19 years old and then at the age of 20 to 30 … light ‘middle or hard.’
Head of the German Cancer Research Center of Hedgehog, this report states that the risk of developing cyclone increases as well as the risk of breast cancer. Participation in sports in addition to cycling can also be done from breast cancer. Helps stay safe.
A lady-in-law, who has been studying cancer on the UK in Britain, says women who are going through the era of ‘exercise are likely to have cancer prevention.’ But these women did not say this with full confidence. Can not reach the age of closing the month.
He also says that it is not necessary that cycling can provide better results than any other exercise. Breast cancer is dangerous but pre-cured
According to Mr Steve Nisson, his indications are that he can be physically active and can be saved from cancer. But scientists are still unable to explain why.

sourceUrduPoint.

Tags

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error

Enjoy this blog? Please spread the word :)

Follow by Email
Facebook
Facebook
Twitter
Close
Close