Health Articles

Blood Sugar Aur Blood Pressure

Blood Sugar Aur Blood Pressure

Blood Sugar Aur Blood Pressure

بلڈ شو گر اور بلڈ پریشر
آپ کے خاموش دشمن ان سے ہوشیار رہیے
چالیس سال کی عمر کے بعد بلڈ پریشر اور کو لیسٹرول کے باقاعدہ ٹیسٹ کرانا ازحد ضروری ہیں بلکہ یہ سارے ٹیسٹ ان لوگوں کو بھی کروانے چاہئیں جو بظاہر بہت صحتمند نظر آتے ہیں ۔
چکنے اور بازاری کھانوں سے حتی الا مکان پر ہیز کیجیے کیونکہ مغربی طرز کے یہ کھانے ہائپر ٹینشن ذیابیطس ہائی بلڈ پریشر اور خون میں کو لیسٹرول کی سطح کو خطر ناک حد تک بڑھانے کا باعث بھی بنتا ہے ۔

عمر کے بڑھنے کیساتھ ساتھ اس بات کی ضرورت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے کہ ہم باقاعدگی کے ساتھ اپنا طبی معائنہ کرواتے رہیں تا کہ مہلک بیماریوں کی بالکل ابتدا میں ہی تشخیص کی جاسکے ۔قریشی صاحب کا خاندان درمیانہ طبقے کا ایک عام خاندان تھا اور ہر لحاظ سے خوشحال تھا۔

اپنے طبقے کے معیار کے اعتبار سے وہ لوگ خوش وخرم زندگی گزار رہے تھے ۔یہ ایک مثالی خاندان تھا جو چار افراد پر مشتمل تھا ۔

دو میاں بیوی اور دو بیٹیاں ۔ایک بیٹی تو ٹین ایجر تھی اور دوسری کی عمر دس سا ل کی تھی ۔دونوں میاں بیوی کا م کرتے تھے ۔ان کی شادی کو سترہ سال کا عر صہ گزر چکا تھا اور اس سارے عرصے کے دوران وہ دونوں کا م کرتے رہے تھے ۔دونوں صبح سے شام تک اتنے زیادہ مصروف رہتے تھے کہ انہیں اپنے اوپر تو جہ دینے کا وقت ہی نہیں ملتا تھا ۔خوش قسمتی سے بچوں کو اپنے والدین کی بے انتہا مصروفیات کے باوجود یہ سہولت حاصل تھی کہ والدین میں سے کوئی ایک عام طور سے ان کے پاس موجود رہتا تھا ۔کیونکہ ان دونوں کے اوقات کا رمختلف تھے ۔عبدالرب قریشی کے اوقات ِ کار روزانہ شام کے پانچ بجے شروع ہوتے تھے جبکہ اس کی بیوی ثمینہ شام پانچ بجے تک گھر واپس آجاتی تھی ۔اس کے نتیجے کے طور پر خاندان کے سارے معاملات ایک مشینی انداز میں چل رہے تھے ۔چونکہ والدین میں سے کوئی ایک ہمیشہ گھر پر موجود رہتا تھا اس لئے بچوں کو ان دوسرے بچوں کی طرح مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا جن کے دونوں ہی والدین سارے دن کے کام پر چلے جاتے تھے ۔والدین بہت زیادہ مصروف رہتے تھے ۔متوسط طبقے کے دوسرے کام کرنے والے لوگوں کی طرح ان کے لئے بھی صبح کا وقت سب سے زیادہ مشکل وقت ہوتا تھا ۔تا ہم وہ کسی نہ کسی طرح ناشتے کی تیاری کا اور دوپہر کے کھانے کے بندوبست کر لیتے تھے اور بچون کو اسکول بھیج دیتے تھے ۔اس وقت کے دوران افراد خا ندان کو سخت تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن اس ساری پریشانی کا ازالہ اس وقت ہوجاتا تھا جب خاندان کے تمام افراد کو ویک اینڈ پر اکٹھا ہونے کا اور ویک اینڈ ایک ساتھ منانے کا موقع ملتا تھا ۔دونوں میاں بیوی بچوں پر اور اپنے کا م پر پوری توجہ دیتے تھے اور زندگی کا ایک ڈھانچہ بن گیا تھا ۔سب کچھ اسی کے مطابق چل رہاتھا ۔عبدالرب قریشی کو خاندان میں سب سے زیادہ صحت مند سمجھا جاتا تھا ۔بچے ہمیشہ خوش ہو کر کہتے تھے ”ہمارے ڈیڈی سب سے زیادہ طاقتور ہیں “عبدالرب کواپنے دفتر کے لوگوں کے درمیان بھی سب سے زیادہ صحتمند سمجھاجاتا تھا ۔حقیقت تو یہ تھی کہ عبدالرب نے اپنی ملازمت کے سارے عرصے کے دوران کبھی ایک دن کے لئے بیماری کی وجہ سے چھٹی نہیں کی تھی ۔
پریشان کن علامتیں
جب عبدالرب کی عمر پینتا لیس سال کی تھی تو اسے سخت کھانسی اور نزلہ ہو گیا ۔وہ دواؤں ی ایک دوکان پر گیا اور اس نے کھانسی کا ایک شربت خرید لیا ۔اسے توقع تھی کہ اس کے استعمال سے فائد ہ ہو جائے گا ۔اس نے شربت کی دو بو تلیں استعمال کر لیں لیکن اسے کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوا ۔وہ ایک مقامی ڈاکٹر کے پاس گیا جس نے اسے بعض اینٹی بایو ٹک دوائیں تجویز کیں ۔اس نے ا ن اینٹی بایو ٹک دواؤں کا استعمال شروع کر دیا۔لیکن اینٹی بایو دواؤں کا رس پورا کرنے کے بعد بھی اس کی ٹکطبیعت ٹھیک نہیں ہوئی ۔چونکہ وہ ہمیشہ صحت مند رہاتھا ۔اس لئے اس نے یا اس کی بیوی ثمینہ نے اس بات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔لیکن ثمینہ کو یہ محسوس ہوا کہ عبدالرب کے کھانسنے کے انداز میں کوئی چیز ایسی تھی جو معمول سے ہٹ کر معلوم ہوتی تھی ۔اس نے اپنے شوہر پر زور دیا کہ وہ ایک قریبی اسپتال میں اپنا پورا چیک اپ کروائے ۔عبدالرب تو یہ سوچتا تھا کہ اس کا اسپتالوں سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے اور وہ اور اسپتال ایک دوسرے سے بہت دور ہیں ۔اس کے خیال کے مطابق اسپتال جانا محض تضیح اوقات تھا ۔تا ہم ‘بیوی کے بہت زیادہ اصرار پر اس کا دل رکھنے کی غرض سے وہ ایک دن ماہرین سے مشورے کے لئے اسپتال جاپہنچا ۔صبح کے تھوڑی دیر کے بعد ہی ثمینہ کو اپنے شوہر کا فون موصول ہوا جس میں اس کے شوہر نے اس سے کہا کہ وہ فوراََ اس کے پاس اسپتال پہنچے ۔وہ سخت پریشان اور افسردہ خاطر معلوم ہورہا تھا ۔ ثمینہ فوراََ اسپتال پہنچی اور وہاں جاکر اسے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر وں نے ہنگامی طور پر عبدالرب کو اسپتال میں داخل کر لیا تھا ۔ڈاکٹر نے ثمینہ کو بتا یا ”آپ کے شوہر کا بلڈ پریشر بہت ہائی ہے ۔وہ اس وقت دو سوتیس اور ایک سو ہے ۔یہ اتنا زیادہ ہائی ہے کہ دل کے دورے کا بھی سبب بن سکتا ہے ۔مریض بے ہوش بھی ہو سکتا ہے ۔و ہ کو مامیں بھی جا سکتا ہے ۔ڈاکٹر نے کچھ مزید تشویش انگیز باتیں بھی بتائیں ۔”ان کا جگر پھیل گیا ہے اور ہمیں بعض دیگر سنگین چیزوں کا بھی شبہ ہے ۔ان کی حالت تو ایسی ہے کہ انہیں وارڈ میں بھی چلنا نہیں چاہئے بلکہ وہیل چےئر استعمال کرنا چاہئے ۔ہم نے انہیں بلڈ پریشر کم کرنے کی گولی دے دی ہے ۔ہم نے انہیں داخل تو کر لیا ہے اور ا ب باقی رسمی کارروائیاں آپ پوری کر دیں ۔
خون میں شوگر کی مقدار
گفتگو کے دوران عبدالرب اور ثمینہ ڈاکٹر کو بے یقینی کے ساتھ دیکھ رہے تھے ۔ان دونوں کے خیال کے مطابق عبدالرب میں تو بیماری کی کوئی علامت نہیں تھی اور وہ بیمار نہیں ہو سکتا تھا ۔انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ و ہ کسی اور ڈاکٹر سے بھی مشورہ کریں گے ۔چونکہ یہ ایک بہت بڑا اسپتال تھا جس میں ہر شعبے کے ماہرین بڑی تعداد میں موجود تھے اور ان سے ان لوگوں کی واقفیت بھی تھی ۔اس لئے دونوں میاں بیوی کو ایک دوسرے ڈاکٹر وں سے مشورہ کرنے میں کوئی وقت پیش نہیں آئی ۔سب کچھ اس قدر تیزی کے ساتھ اور ایسے غیر متوقع طور پر ہو ا تھا کہ دونوں میاں بیوی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ عبدالرب بیمار بھی ہو سکتا ہے ۔ان دونوں کی اس کیفیت کو دیکھ کر چیف کنسلٹنٹ کو قدرے حیرانی ہوئی او اس ثمینہ سے مخاطب ہو کر سختی سے کہا ” آپ انہیں صرف اپنی ذاتی ذمہ داری پر اسپتال سے باہر لے جاسکتی ہیں اور اس کے لئے آپ کو ایک دستاویز پردستخط کرنے ہوں گے ۔“ان دونوں میاں بیوی کے پاس اب ڈاکٹروں کی بات ماننے کی علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا ۔عبدالرب کو سپتال میں داخل کرادیا گیا اور اس کے تمام ٹیسٹ شروع ہو گئے ۔اس کی ناشتے کے بغیر بلڈ شوگر بہت ہی زیادہ ہائی نکلی ۔تقریباََ پانچ سو ۔چیف میڈیکل آفیسر نے کہا کہ یہ نہایت غیر معمولی مقدار ہے ۔کو لیسٹرول اور لیپڈ بھی بہت زیادہ بڑھے ہوئے پائے گئے ۔ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق عبدالرب قریشی ہائپر ٹینشن ‘ذیابیطس ‘بڑھے ہوئے کو لیسٹرول اور بہت زیادہ ہائی بلڈ پریشر کا شکار تھے ۔اس کے بہت سے ٹیسٹ کئے جانے تھے اور اسے پندرہ دن تک اسپتال میں داخل رہنا تھا ۔ثمینہ کی پر سکون اور شاد وآباد دنیا میں جیسے زلزلہ آگیا ۔

:طرزِ زندگی 

ایک ایسے باپ کے بارے میں جسے زندہ رہنے کے لئے انسولین کا سہارا لینا پڑتا ہو ‘بچے یہ نہیں کہہ سکتے کہ میرے والد سب سے زیادہ مضبوط انسان ہیں “اب اس خاندان کا طرزِ زندگی بدل چکا ہے ۔بازار کے کھانے کھانا بالکل بند کردیا گیا ہے ۔صبح کے بہت مصروف نظام الاوقات میں چہل قدمی کے وقت کوبھی شامل کردیا گیا ہے ۔دماغ کو پر سکون رکھنے کی شعوری طور پر کوشش کی جارہی ہے ۔یو گا کی مشقیں شروع کی دی گئی ہیں اور پھلوں اور سبزیوں کو روزانہ کی خوراک میں شامل کر دیا گیا ہے ۔کھانے میں نمک کی مقدار کم کردی گئی ہے اور بغیر شکر والی گولیوں کا استعمال شروع کردیاگیا ہے ۔ان ساری چیزوں کے نتیجے میں مٹاپے میں کمی واقع ہوئی ہے اور ذیابیطس اور بلڈ پریشر پر قابو پالیا گیا ہے ۔
اس خاندان کی کہانی سے ہمیں کیا سبق حاصل ہوتا ہے ؟
چالیس سال کی عمر کے بعد بلڈ پریشر بلڈ شوگر او کو لیسٹرول کے باقاعدہ ٹیسٹ کروانے چاہئیں اور ان کے علاوہ معمول کے دوسرے ٹیسٹ بھی کروانے چاہئیں ۔یہ سارے ٹیسٹ ان لوگوں کو بھی کروانے چاہئیں جو نظام بہت صحت مند نظر آتے ہیں اور جنہیں کوئی شکایت نہیں ہے ۔چکنے اور بازار کے کھانوں سے پرہیز کیجئے اور کھانا کھانے کی صحت بخش عادتیں پیدا کیجئے ۔تمام چربی والے اور مغربی طرز کے بازار کے کھانے ہمارے معاشرے کے لوگوں کے لئے موزوں نہیں ہیں ۔ورزش کو اپنی زندگی میں شامل کیجئے ۔یہ چہل قدمی ‘جاگنگ یا یو گاوغیرہ کی شکل میں ہو سکتی ہے ۔خاندان والوں کے ساتھ فرصت کا کچھ وقت گزار ئیے۔ صبح کے وقت کی زبردست بھاگ دوڑاور اسٹر یس سے بچئے ۔پر سکون رہنے کی کوشش کیجئے ۔اپنے ناشتے کو کبھی مت بھو لئے ۔اچھا کھانا پابندی کے ساتھ کھائیے ۔اپنی غذا میں زیادہ سے زیادہ پھل اور سبزیاں شامل کیجئے ۔اپنے سونے کے وقت میں باضابطگی پیدا کیجئے ۔قریشی خاندان جس مشکل تجربوں سے گزرا ہے وہ کسی کے ساتھ بھی پیش آسکتے ہیں ۔تھوڑی سی معمولی کوششوں کے ذریعے ہم زیادہ بہتر انداز کی زندگی گزار سکتے ہیں ۔
تاریخ اشاعت: 2019-03-25
Blood glow and blood pressure:

Your silent enemies are alert to them
After 40 years of blood pressure and regular test of lysrolol, the atomic is essential, but all these tests should also be done to those who look very healthy.
Hut with food and lunch foods, because the Western-style diet hyper tension also causes blood pressure levels to increase blood pressure and blood pressure levels.

With the increase in the age, the need to increase our need for regular medical examinations to diagnose the deadly diseases. The family of Kyrgyzstan was a middle class family and every In terms of prosperity.
Those people were living happier in their classroom standards .It was an ideal family consisting of four people. Blood Sugar Aur Blood Pressure

Two wives and two daughters .A daughter was ten years old and used to be ten years old .They used to marry her husband .He was seventeen years old and she was in all her periods They were doing so much to the extent that they did not have time to give up on their own till morning till evening .Unfortunately, despite the infinite engagement of the children, it was a privilege that parents One of them was usually present to them.
Because the time for both of them was rampant .Abbas Qadri ‘s times were started every evening at the evening of evening, while his wife Samina used to return home by five o’clock in the evening. As a result, all the family matters I was walking. As one of the parents always lived at home, the children did not have to face difficulties like other children whose parents used to go on every day’s work.
Parents were very busy . Blood Sugar Aur Blood Pressure The morning time was the most difficult time for those working class, as well as the other working people .We thus arrange them for breakfast and lunch. And used to send babes to school. During this time people faced severe stress, but the problem was that when all family members were gathered together on Weekend and Weekend. I had an opportunity to celebrate.
Both the wives used to pay attention to children and their children and became a structure of life. Everything continued accordingly. Abdurrahrab Qureshi was considered as the most healthy family in the family. “Our daddy is the most powerful,” says Abdur, who was considered to be the most healthy among his people.
The fact was that Abdur did not leave due to his illness for a day during his full time of his work. Blood Sugar Aur Blood Pressure

Anxious Symbols:

When Abdulbah was twenty-five years old, he became very coughed and depressed.She went to a medicine shop and bought a syrup of cough. She was expected to benefit from her use.
He used to use two syrup syrups but he did not get any special benefits. He went to a local doctor who suggested to give him some antibiotic tissue. He started using medicines. .But after completing anti – medicinal juices, his dementia was not well .As he always kept healthy, he neither did his wife Samina take any special attention.
But Samina realized that there was something like Abdurab Khattan who had been hitting from the usual routine. He emphasized on his husband that he should complete his check in a nearby hospital. However, he used to think It is not a matter of hospitals, and they and the hospital are far away from each other. According to their view, it was just a matter of time to go to the hospital. Blood Sugar Aur Blood Pressure
To us his heart, on the very insistent of his wife, he drank a specialist for a consultation with experts. After a short time, Samina was received from her husband’s phone, her husband He said that he immediately got to the hospital. He was very upset and detected for rumor. Samina reached the hospital immediately and went to find out that the doctor had apparently admitted Abdulbah to the hospital. Blood Sugar Aur Blood Pressure
The doctor told Samina or “Your husband’s blood pressure is very high. He is currently two hundred and one hundred .This is so high that the heart attack can also cause anxiety. It can also be mammoth. The doctor also has some more worried things. “Their liver is spread and we have some doubts about other serious things. Their condition is that they also walk in the ward. No, but wheel wheel should be used.
We have given them the tablet to reduce blood pressure .We have entered them and you can complete the remaining formal actions.

The amount of blood sugar:

During the discussion, Abdulbagh and Samina were watching the doctor with uncertainty. According to both of them, Abdulbab did not have any sign of illness and he could not have been ill. He insisted that anyone And also consult the doctor.
Since it was a huge hospital in which every sector’s specialists were present and they had the knowledge of them also, so that both the wives did not have time to consult with each other .Everything So fast and it was unexpected that both women were not ready to recognize that Abdurabb may also be ill despite being educated.
Seeing these qualities, the Chief Consultant was very surprised and spoke to Samina, and said strictly, “You can take them out of the hospital only on their own personal responsibility, and for that you have to use a document. “Both these wives did not have any other option to talk to doctors now. Abdurabbar was admitted to the hospital and all its tests started. Blood Sugar Aur Blood Pressure
Without its breakfast, blood sugar grew very high .Actually, 500 Medical Officers said that it is very unusual quantity .Cholesterol and leopard were also shown to be very high. According to the doctors’ diagnosis, Abdur Qureshi Hyper Tension ‘diabetes’ escalated to lystrol and much higher blood pressure. Many of them were to be tested and it was to be admitted to the hospital for fifteen days.
The earthquake like Suman and Shad in the wilderness world came.

Lifestyle:

A father who has to endure insulin to survive ‘children can not say that my father is the most strong man.’ The family’s life has changed now. The food lunch is completely closed. Has been added .A lot of busy schedule systems have been added at the time of a walk.
Stress is being strived to keep the mind healthy .Veu exercises have been started and fruit and vegetables have been added to the daily diet. The amount of salt in the diet has been reduced and without thanksgiving Volleyballs have started using. All these things have resulted in obesity and control of diabetes and blood pressure.

What lesson do we get from this family story?
After the age of 40, blood pressure blood sugar should be done regular tests of lystrol and other than normal tests should be done. These tests should be done to those who look very healthy and those who Do not complain. Avoid eating and eating food and creating healthy habits of food.
All fat and western style market foods are not suitable for people of our community. Join exercise in your life .It can be a walk in the form of ‘Jagging or Yoga Goggles.’ Some of the opportunities with family members Have a time. Take a long run in the early morning and save the stewardess .Stay stay calm .Don’t ever forget your breakfast. Eat your food with a ban ban. Add more fruits and vegetables to your diet .Your sleep time I agree with them. The family members who have passed through difficult experiences can also be present with anyone. We can enjoy a better way through small efforts.
Date published: 2019-03-25.

sourceUrduPoint.

Tags

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close