Health tips

Amblyopias

Amblyopias

Amblyopias

آنکھ اور دماغ کے رابطے میں کوئی خرابی پیدا ہو جانے کے سبب ایک یا دونوں آنکھوں میں دیکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے ۔تشویش ناک بات یہ ہے کہ چشمہ لگانے کے باوجود یہ صلاحیت پوری نہیں ہوتی ۔ظاہری طور پر آنکھ کا نظام درست کام کررہا ہوتا ہے ،لیکن متاثر ہونے والی آنکھ دماغ کے لیے اتنی کار آمد نہیں رہتی،جتنی کہ ایک صحت مند آنکھ۔چنانچہ دماغ اس کار کردگی کو معطل کر دیتا ہے ۔اس وقت ساری دنیا میں تقریباً 40فیصد بچے بصارت کی کم زوری کا شکار ہیں ۔یہ بینائی کے کم ہوجانے کی ایک بنیادی وجہ خیال کی جاتی ہے ۔

:کم نظری (AMBLYOPIA)کی درج ذیل وجوہ ہیں

ایک آنکھ کی بصارت کا دوسری کی نسبت کم ہو جانا یا دونوں کی بینائی میں فرق پیدا ہو جانا۔

آنکھ کا بھینگا پن۔

نو نہالوں میں پیدائشی طور پر موتیا اتر آنا یا آنکھ کے پردے کا دھند لاجانا۔

جب بیماری بڑھ جاتی ہے تو آنکھ میں رسولی بھی بن جاتی ہے۔
درج بالا وجوہ کی بنا پر کم زور آنکھ سے وصول ہونے والی اشکال یا تصاویر دماغ تک پہنچتی ہیں تو اسے مفہوم اخذ کرنے میں دشواری پیش آتی ہے ،لہٰذا وہ اس آنکھ کے عکس کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے ۔اس طرح سے اس آنکھ کی کار کردگی بتدریج سست ہو جاتی ہے ۔چنانچہ اس مرض کو آنکھ کی سُستی بھی کہا جاتا ہے ۔

بچوں کی دونوں آنکھیں متاثر ہو سکتی ہیں ،اس وقت بیماری کا پتا چل جاتا ہے ،لیکن جب ایک آنکھ کم نگاہی کا شکار ہوتی ہے تو بچے کو دیکھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی ،اس لیے وہ اسے خاطر میں نہیں لاتا۔اس کاکام چلتا رہتا ہے ،مگر جوں جوں اس کی عمر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے تو اسے دیکھنے میں پریشانی ہونے لگتی ہے۔

بچہ جب بالغ ہو جاتا ہے تو اپنی بینائی میں کمی کے باعث اسے گھبراہٹ اور بے چینی ہونے لگتی ہے اور وہ اس کی وجوہ تلاش کرتا ہے ،حالانکہ وہ بچپن سے اس مرض میں مبتلا ہو تا ہے ۔

:بچپن میں درج ذیل علامات ظاہر ہو جائیں تو مرض کا علاج کرنے میں دشواری نہیں ہوتی 

دونوں آنکھوں کا یکساں حرکت نہ کرنا۔
کچھ پڑھتے وقت بچے کا الفاظ کی ادائی میں زیادہ وقت صرف کرنا۔
بچہ سیدھا دیکھنے کے بجائے سر ٹیڑھا کرکے دیکھنے لگے۔
آنکھ کے ڈھیلوں کا متواتر حرکت کرنا۔
بچہ ٹیلی وژن دیکھتے ہوئے ،کوئی تصویر بناتے وقت یا باریک کام کرتے وقت صحت مند آنکھ سے نہ دیکھ سکے اور چیخنے چلانے لگے۔
وہ بچے جن کے والدین کالے موتیے ،سفید موتیے یا بھینگے پن میں مبتلا ہوں، وہ نظری کمز وری کے خدشات میں مبتلا ہو سکتے ہیں ،اس لیے کہ ان پر موروثی اثر پڑتا ہے ۔اس کے علاوہ ان کے والدین اگر سگرٹ نوشی کرتے ہیں یا نشہ آور ادویہ استعمال کرتے ہوں تو س کا اثر بھی پڑ سکتا ہے ۔پیدائش کے وقت اگربچے کا وزن کم ہو ،وہ کسی جینیاتی مرض میں مبتلا ہو یا اس کے ذہنی توازن میں بگاڑ پیدا ہو جائے ،تب بھی والدین کو محتاط رہنا چاہیے۔
اس بیماری پر قابو پانے کا طریقہ یہ ہے کہ بچوں کی عمر آٹھ برس پہنچنے سے پہلے ہر چھے مہینے کے بعد ان کا طبی معائنہ کرالینا چاہیے۔اگر نظری کمزور ہوئی تو علاج سے جاتی رہے گی ۔آنکھوں کے ایک ماہر معالج نے بتایا کہ جب یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ بچے کی ایک آنکھ کمزور ہے تو صحت مند آنکھ کو پٹی یا کانٹیکٹ لینز سے بند کر دیا جاتا ہے ۔پھر مریض کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ زبردستی کم زور آنکھ سے دیکھے۔

خاص طور پر بچوں کو ایسی مشقیں کرائی جاتی ہیں ،جن میں وہ کمزور آنکھ کا زیادہ استعمال کریں ،مثلاً خاکوں میں رنگ بھرنا،ٹیلی وژن دیکھنا ،کتاب پڑھو انا،تاکہ دماغ کمزور آنکھ سے آنے والے دھندلے اور غیر واضح عکس کو وصول کرے۔اس طرح سے کمزور آنکھ کی کار کردگی میں بتدریج اضافہ ہو جاتا ہے ،مگریہ مشقیں آٹھ برس کی عمر سے پہلے ہونی چاہییں ،ورنہ اس کے بعد آنکھ اپنی حیاتیاتی نشوونما مکمل کرلیتی ہے ،چنانچہ نتائج حوصلہ افز ا نہیں ہوتے ۔

بہترہے کہ بچے کی پیدائش کے ابتدائی آٹھ برسوں میں بصری کمزری کا علاج کرالیا جائے ،ورنہ بعد میں نفسیاتی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔بچپن کا دور گزر نے کے بعد ایسا بچہ کئی کام کرتے وقت محسوس کرتا ہے ،مثلاً چیزوں کی لمبائی ،چوڑائی یا گہرائی کا درست اندازہ نہ کرپانا،ایک یا دونوں آنکھ سے دھندلا نظر آنا،وقت گزرنے کے ساتھ کم نظری کی شکار آنکھ کا بھینگا ہو جانا۔وہ افراد جو کم نظری کا شکار ہوتے ہیں ،وہ اپنے ہاتھوں اور آنکھوں کی حرکات میں کوئی رابط نہیں رکھ پاتے ،مثلاً ڈرائیونگ کرنا یا بیڈ منٹن کھیلنا وغیرہ۔
عرم رسیدہ حضرات کے لیے اب پیوندکاری ہونے لگی ہے ۔بصری کمزوری پر قابو پانے کے لیے اب سوفٹ وےئر بھی آچکے ہیں۔

The eyes and mind’s contact decreases the ability to see one or both eyes because of an inconvenience. It is a frustrating thing that despite the sprouting, this capability is not complete. Demonstrate the right eye system It does not matter, but the affecting eye does not work so much for the brain, as a healthy eye. Amblyopias
So the brain suspends this activity. There is approximately 40 percent of the children in the world suffering from the visual intake. This is considered to be a major reason for reducing bay. Amblyopias
The following is the following:

AMBLYOPIA:

One eye vision decreases in comparison to the second or the difference between both sides.

Eye weight

Neutral breeding or fetching the eye curtains in the nails.

When the disease increases, the eye becomes ripe.
Due to the above reason, the pictures or pictures received from a lesser eye reach the mind, there is a problem finding it useful, so it refuses to accept the image of this eye. Caring for eye graduation slows down. Thus, this disease is also called an eye cheaper.

Both the eyes of the children may be affected, the disease is known at the time, but when an eye is less aware of it, then there is no problem in seeing the child, so it does not bring it to it. It remains, but when the age increases, it starts having trouble seeing it.
When a child grows adolescent, it reduces and becomes uncomfortable due to lack of pains and he finds out the reason, although he is suffering from childhood.

If the following symptoms appear in childhood, there is no problem in treating the disease:
Do not move both eyes equally.
Doing something while doing something more than just a child’s payment. Amblyopias
Instead of seeing the child, they started looking at the head.

Animated movements of the eye lose

Children watching television, making a photo or doing good work, can not see the healthy eye and start screaming.

Those children whose parents are in black beads, white beads or barks can suffer from the anxieties of optical weakness, because they have an inherent effect. In addition to their parents if they cigarettes Or if you use drug addiction, it can have an effect. If the weight loss of the kidneys is reduced, it may be in any genetic illness or disturbed by its mental balance, even when the parents should be cautious. Amblyopias

The way to control this disease is that every child should examine their medical examination every six months before reaching the age of 8 years. If the optical weakness becomes weak, it will go away from treatment. A physiotherologist said when It is known that a baby’s eye is weak if a healthy eye is locked with a strip or contact lane. The patient is then instructed to look at a less intense eye.

Especially children are exercised in such a way that they use more of a weakened eye, such as coloring in the dust, watching television, reading the book, so that the brain receives a foggy and unclear image from a weakened eye. Thus, a weak eye activity increases rapidly, Magaria exercises should be before eight years, otherwise, the eye completes its biological growth, so the results are not encouraged. Amblyopias

It is better to treat visual weakness in the first eight years of the birth of the child, or later, it may face psychological complications. After passing away during the period of silence, such a child feels as much as he does, such as the length of things, Do not measure the width or depth of the right, look faded with one or both eyes; The time consumed with lesser eyesight is less. Those who suffer lesser ideology, in their hands and eyes’ actions No contacts, such as driving or playing badminton, etc.Amblyopias
Right now, there is a beginner for superstitious gentlemen. Now we have also swiftly been able to overcome physical weaknesses.  source urdupoint.

Related Articles

3 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error

Enjoy this blog? Please spread the word :)

Follow by Email
Facebook
Facebook
Twitter
Close
Close